Al-Risala · September 2022 · page 21

شکر کے دو درجے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۱

کے تحت سارے جسم میں رگوں کے ذریعے مسلسل دوڑتا ہے۔ یہ بلا شبہ ربوبیت کے نظام کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ خون کا بننا، خون کا مسلسل گردش کرنا اور خون کی صفائی کا انتظام، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں انسان کو خدا کی نعمتیں یاد دلاتی ہیں اور وہ اللہ کے لیے سرا پا شکر میں ڈھل جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں خون کا تصور صرف یہ تھا کہ وہ ایک سرخ سیال ہے جو جسم کی طاقت کے لیے جسم کے اندر گردش کرتا رہتا ہے۔ پھر یہ دریافت ہوئی کہ خون دو قسم کے ذرات سے مل کر بنتا ہے ۔ سرخ ذرات (red blood corpuscles)، اور سفید ذرات (white blood corpuscles)۔ اب یہ دریافت ہوئی ہے کہ خون میں اس کے سوا، ایک اور خورد بینی ذرہ ہوتا ہے۔ اس کو پلیٹ لیٹس (platelets) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تیسرا ذرہ انسان کی زندگی اور صحت کے لیے بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خون ہر اعتبار سے، اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کا احساس آدمی کے اندر شکر و حمد کے چشمے جاری کر دیتا ہے۔

اس قسم کے بے شمار انتظامات ہیں جن کے اوپر انسان کی زندگی قائم ہے۔ یہ نظام براہِ راست خدا کی قدرت کے تحت قائم ہے اور اسی کو قرآن میں ربوبیت کہا گیا ہے۔ یہ نظامِ ربوبیت تمام تر اللہ کی جانب سے قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ربوبیت کے اس نظام سے واقفیت حاصل کرے اور پورے معنوں میں اللہ کا شاکر بندہ بن کر اس دنیا میں رہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رب صرف اللہ ہے اور اُسی کی ربوبیت اِس دنیا میں قائم ہے (6:164)۔ اِسی طرح فرمایا کہ حکم صرف اللہ کا ہے اور تمام چیزیں اُسی کے زیر حکم ہیں (12:40)۔ یہ دونوں الفاظ (رب اور حکم) اللہ کی ذات کی نسبت سے قرآن میں آئے ہیں، اس کا کچھ بھی تعلق سیاسیات یا معاشیات سے نہیں ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ انھوں نے مذکورہ الفاظ قرآن سے لیے اور اس کے اندر اپنے خود ساختہ مفہوم کو شامل کر دیا۔ یہ گویا کہ رب اور حکم کے لفظ کو سیاسی بنانا (politicisation) تھا۔ قرآنی الفاظ میں اِس قسم کا خود ساختہ مفہوم شامل کر کے انھوں نے یہ اعلان کیا کہ مسلمان کا یہ مشن ہے کہ وہ دنیا میں نظامِ ربوبیت یا نظامِ حاکمیت قائم کرے۔ یہ بلاشبہ ایک غیر علمی بات ہے۔ اس کی غلطی اتنی زیادہ واضح ہے کہ وہ بداہتاً ہی قابلِ رد ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page