جذباتِ شکر کی بیداری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۲
جذباتِ شکر کی بیداری
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھ کر شام کو پانی سے افطار کیا تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر (2357)۔ یعنی، پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور روزے کا اجر إن شاء اللہ ثابت ہو گیا۔
پانی ایک غیر معمولی قسم کی نعمت ہے۔ پانی پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی نہیں تو زندگی نہیں، مگر عام حالات میں پانی کی اس خصوصی نعمت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک آدمی جب روزہ رکھ کر سارے دن پانی کا استعمال نہ کرے اور اُس پر پیاس کا تجربہ گزرے، اُس وقت جب آدمی پانی پیتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ پانی کیسی عجیب نعمت ہے۔
اُس وقت آدمی کے تمام احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ کس طرح دو گیسوں کے ملنے سے سیال (liquid) پانی بن گیا۔ اتھاہ مقدار میں پانی کے ذخیرے زمین کے اوپر جمع ہو گئے، پھر پانی سے زندگی کی تمام ضرورتیں پوری ہو گئیں۔ انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ پانی آدمی کی پیاس کو بجھا کر اس کے لیے زندگی کا سبب بنتا ہے۔ یہ احساسات جب جاگتے ہیں تو نہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی پیاس بجھتی ہے، بلکہ اسی کے ساتھ شکرِ خداوندی کا ایک دریا آدمی کے اندر رواں ہو جاتا ہے۔ اللہ، انسان کا منعم حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندر ان نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہو جاتا ہے۔ وہ غفلت سے باہر آ جاتا ہے۔ وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہوکر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ روزہ، جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میں رہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا شعوری احساس نہیں ہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو از سرِ نو دریافت کر کے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues