فرق، نہ کہ تبدیلی
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۹
ہیں، ایک ہے مختلف انواع (species) کے جسمانی مظاہر کا معاملہ۔ اور دوسرا ہے، قانون ارتقا کا مطالعہ، جو ارتقا پسند علما کے مطابق ، انواع کی تبدیلیوں کے درمیان مخفی طور پر جاری رہتا ہے، جس کی بنیاد پر ، ان علما کے مطابق ، ایک نوع کے جانور سے دوسرے نوع کا جانور نکلتا ہے۔ ایک ارتقائی عالم جب انواع حیات کے جسمانی مظاہر کا مطالعہ کرتا ہے تو گویا کہ وہ ’’اشیا‘‘ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ، جب وہ ارتقائی قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے موضوع کے اس پہلو کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جس کو قیاس یا آئڈیا کہا جاتا ہے۔ ہر ارتقائی عالم جانتا ہے کہ دونوں پہلوؤں کے درمیان نوعی فرق پایا جاتا ہے۔ اس معاملہ میں جہاں تک اشیا ( جس کی بنیاد پر شواہد ارتقا اکٹھا کیے جاتے ہیں ) کا تعلق ہے، اس کے براہ راست دلائل قابل حصول ہیں۔ مثال کے طور پر متحجرات ( fossils ) جو کھدائی کے ذریعہ زمین کی تہوں سے کثرت سے برآمد کیے گئے ہیں، ان کا مطالعہ مشاہداتی سطح پر ممکن ہے۔
اس کے برعکس ، قانونِ ارتقا کے معاملہ میں موضوعی شواہد نہ ہونے کی وجہ سے اس پر براہ راست استدلال ممکن نہیں۔ مثلاً ارتقائی عمل کے دوران اشکال میں اچانک تبدیلیوں (mutations) کا نظریہ تمام تر قیاسات پر مبنی ہے، نہ کہ براہ راست مشاہدات پر۔ اس دوسرے معاملہ میں خارجی تغیر تو دکھائی دیتا ہے، مگر قانون تغیر بالکل نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہر ارتقا پسند عالم، ارتقا کے موضوع کے اس دوسرے پہلو میں بالواسطہ استدلال سے کام لیتا ہے جس کو علم منطق میں استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔
تبدیلی کا یہ نظریہ ارتقا (evolution) کی بنیاد ہے۔ تاہم اس معاملہ کے دو حصے ہیں۔ اس کا ایک جزء مشاہدہ میں آتا ہے، یعنی اشیا۔ مگر اس کا دوسرا جزء مکمل طور پر ناقابل مشاہدہ ہے۔ وہ صرف استنباط کے اصول سے کام لے کر فلسفہ ارتقا میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ ایک عام واقعہ ہے کہ انسان یا جانور سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ سب ایک ہی قسم کے نہیں ہوتے۔ ان میں مختلف اعتبار سے کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اس حیاتیاتی مظہر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues