Al-Risala · January 2022 · page 18

فرق، نہ کہ تبدیلی

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۱۸

فرق، نہ کہ تبدیلی

24-28 ستمبر 1990 کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے طرابلس (لیبیا) کا میرا ایک سفر ہوا۔ اس سفر میں میری ملاقات ایک سیکولر تعلیم یافتہ صاحب سے ہوئی۔ ان سے ڈارون کے نظریہ ارتقا پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں ڈارونزم کو نہیں مانتا۔ وہ حیرت کے ساتھ میرا چہرہ دیکھنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ڈارون کا نظریہ ارتقا تو ایک ثابت شدہ نظریہ ہے۔ پھر کس طرح آپ اس کا انکار کر سکتے ہیں؟

میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ثابت شدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس نظریہ کے علما نے بندر سے لے کر انسان تک کے تمام ڈھانچے (skull) جمع کیے ہیں۔ ان کو سلسلہ وار رکھ کر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایک تدریجی تبدیلی (gradual change) ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ ’’تبدیلی‘‘ کہتے ہیں، اس کو میں اگر ’’فرق‘‘ کہوں تو آپ کے پاس اس کی تردید کی کیا دلیل ہوگی؟ یہ صحیح ہے کہ حیوانات کے درمیان جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے فرق کے ساتھ کچھ مشابہتیں بھی ہیں۔ مثلاً ہاتھی اور چو ہا ظاہری طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن دونوں ریڑھ کی ہڈی والے جانور ہیں۔ یہی معاملہ انسان اور حیوان کا ہے۔ انسان اور حیوان کے ڈھانچے میں بھی کچھ مشابہتیں ہیں۔ مگر جب تک تجرباتی طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ایک نوع سے دوسری نوع نکلی ہے، اس وقت تک ڈھانچے کی اس مشابہت کو ارتقائی تبدیلی کی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ موجودہ حالت میں یہ مشابہت صرف فرق کو بتا رہی ہے۔ یعنی ہرڈھانچہ اپنی ایک مستقل نوع کو بتا رہا ہے، نہ یہ کہ ایک سے دوسرا نکلا۔ دوسرے سے تیسرا اور تیسرے سے چوتھا۔ اور اس طرح ہوتے ہوتے انسان بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظریہ ارتقا کی بنیاد صرف خود ساختہ تو جیہات پر ہے، نہ کہ حقیقتاً مشاہدہ اور تجربہ پر۔

جو علماے سائنس حیاتیاتی ارتقا کو سائنسی حقیقت کہتے ہیں، ان کے نزدیک اس کے دو پہلو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page