شکر، نہ کہ شکایت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۳
شکر، نہ کہ شکایت
5 ستمبر(2003) کو جمعہ کا دن تھا۔ میں نے نظام الدین کی کلاں(کالی) مسجد میں نمازِ ادا کی۔ امام صاحب نے خطبہ سے پہلے اپنی تقریر میں بتایا کہ 1947 میں یہ مسجد کچھ ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھی۔ ہم نے دوبارہ قبضہ کر کے اس کو آباد کرنا چاہا تو پولیس کیس بن گیا اور عدالتی کارروائی کی نوبت آگئی۔ عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ کیا 15 اگست 1947 سے پہلے یہ عمارت ایک مسجد تھی اور وہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ ہندو جج نے تین آدمیوں کی گواہی پر مسجد کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ تینوں دہلی کے تین ہندو تھے۔ ان میں سے ایک برہمن تھا، دوسرا بنیا اور تیسرا ہریجن۔ کلاں (کالی) مسجد تقریباً 800 سال پہلے تغلق دور میں بنائی گئی تھی۔ میں 1983 سے اس مسجد میں نماز پڑھتا رہا ہوں۔ پہلے یہ مسجد تقریباً کھنڈر کی حالت میں تھی۔ اب یہاں مسجد کی شاندار عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک علامت ہے جو بتاتی ہے کہ اس ملک میں ملت مسلمہ کا مستقبل دن بدن بہتر حالت کی طرف جارہا ہے۔
اسی طرح کا واقعہ ہے۔ اپریل 1996 کو میرٹھ اور اس کے اطراف کے لیے میرا سفر ہوا۔ 12 اپریل کو جمعہ کا دن تھا۔ سر دھنہ کی جامع مسجد میں میں نے اپنے مقامی ساتھیوں کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی۔ کافی بڑی مسجد ہے، اندر سے باہر تک نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کہ موجودہ مسلمانوں سے جو سب سے بڑی چیز اٹھ گئی ہے وہ شکر خداوندی کا جذبہ ہے۔ چنانچہ ایک مسجد کے ساتھ کسی وجہ سے کوئی ناخوش گوار واقعہ آجائے تو ہر زبان اور ہر قلم اس کے پر جوش تذکرہ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ مگر اس ملک میں لاکھوں مسجدیں شاندار طور پر آباد ہیں اور اس کے تذکرہ میں کوئی رطب اللسان نہیں۔
مجھے یاد آتا ہے کہ 40 سال پہلے میں یوپی میں اپنے آبائی گاؤں، بڈھریا، ضلع اعظم گڑھ، میں رہتا تھا۔ میرے گھر کے قریب ایک مسجد تھی۔ اس میں اکثر ایسا ہوتا تھا کہ میں ہی مؤذن ہوتا تھا اور
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues