Al-Risala · September 2022 · page 34

شکر، نہ کہ شکایت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۴

میں ہی امام اور مقتدی۔ خاص طور پر عشاء کی نماز مجھے اس طرح پڑھنا ہوتا تھا کہ میں لالٹین لے کر مسجد جاتا جو گاؤں کے باہر کھیتوں کے کنارے واقع تھی۔ رات کے سنسان ماحول میں عشاء کی نماز پڑھنا بڑا عجیب تجربہ تھا۔ اس وقت وہاں میرے ساتھ کوئی اور نمازی نہیں ہوتا تھا۔ میں خود ہی اذان دیتا اور خود ہی تکبیر کہہ کر جماعت کے طور پر نماز ادا کرتا اور پھر لالٹین لے کر واپس اپنے گھر آجاتا۔ مگر اب 40 سال کے بعد مسجد سمیت یہ پوری جگہ نہایت بارونق ہو گئی ہے۔ اب وہاں مسجد سے متصل سڑک گزر رہی ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون آچکا ہے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک معیاری اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اب یہاں رات دن چہل پہل رہتی ہے۔

اس قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ان واقعات میں نہایت امید افزا پیغام چھپا ہوا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلمان، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں، شکایت کی بولی بولتے ہیں۔ مجھے اپنے تجربہ میں پوری مسلم دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو شکایت سے خالی ہو، اور حقیقی طور پر شکر کے جذبہ سے سرشار ہو کر حمد کلچر یا مثبت سوچ میں جیتا ہو۔

_

اردو کے ایک مرثیہ گو نے قدیم زمانہ میں حضرت حسین اور ان کے خاندان کے سفر کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا تھا کہ خدا نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کو مختصر کر کے ان کا راستہ آسان بنا دو: طنابیں کھینچ کر کم کر زمیں کو کہ ہو وے راہ کم ان مہ جبیں کو آج اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کے لیے ’’زمین کی طنابیں کھینچ کر‘‘ سفر کو مختصر بنا دیا ہے، یعنی جدید وسائل کے ذریعہ فاصلوں کو کم کر دیا ہے۔ مثلاً ہوائی جہاز کی سواری آج بہت زیادہ عام ہو چکی ہے۔ اس لیے لوگوں کو اس کے غیر معمولی پن کا احساس نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔ ہوائی جہاز نے آج لمبے سفروں کو ہر آدمی کے لیے ممکن بنا دیا ہے۔ ورنہ قدیم زمانے میں بہت ہی کم افراد لمبے سفر کا حوصلہ کر سکتے تھے۔ مگر قرآن کے مطابق، انسانوں میں سب سے کم وہ لوگ ہیں جو قابل شکر باتوں کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور شکر کے جذبات سے سرشار ہو جائیں (34:13)۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues

Printed page