عالمی شکر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۷
عالمی شکر
اسلام میں انسانوں کا شکر ادا کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار انسانوں کا شکر ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ مثلاً ایک حدیثِ رسول یہ ہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ (مسند احمد، حدیث نمبر 8019) ۔ ابو ہریرہ کی روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا، جو انسانوں کا شکر ادا نہیں کرتا۔
اس حدیث کا ایک اور مطلب بھی ہے جو ابن الاثیر الجزری ( وفات 606ھ) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : أَنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ شُكْرَ الْعَبْدِ عَلَى إِحْسَانِهِ إليه، إذا كَانَ الْعَبْدُ لَا يَشْكُرُ إِحْسَانَ النَّاسِ وَيَكْفُرُ معروفهم (جامع الاصول، جلد 2، صفحہ (559) ۔ یعنی، اللہ اس بندے کا شکر قبول نہیں کرے گا کسی احسان پر، اگر وہ بندہ انسانوں کے احسانات کا شکر ادا نہ کرے یا ان کے احسانات کا انکار کرے ۔
غور سے دیکھا جائے تو اس حدیث میں شکر کا ایک عالمی حکم بیان کیا گیا ہے، یعنی دنیا کے تمام انسانوں کا شکر گزار ہونا، اور ان کے لیے دل میں منفی سوچ نہ رکھنا۔ قدیم دور میں انسان ایک دوسرے پر محدود معنی میں نر بھر (dependent) ہوتا تھا۔ مگر دورِ جدید کو عالمی طور پر باہمی انحصار (global interdependence) کا دور کہا جاتا ہے۔ کوئی انسان کسی دوسرے انسان سے بے نیاز نہیں، ہر انسان دوسرے انسان کا محتاج ہے۔ خواہ وہ ڈائریکٹ طور پر ہو یا بالواسطہ طور پر۔ اسی حقیقت کو مولانا وحید الدین خاں صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اللہ نے انسانی تاریخ میں ایسے اسباب پیدا کیے کہ انسانوں کے درمیان ایک نئی ڈائیکاٹومی وجود میں آگئی۔ وہ تھی، دوست اور موید (supporter) کی ڈائیکاٹومی۔ یعنی جولوگ دوست تھے، وہ تو دوست ہی تھے۔ لیکن جو لوگ دوست نہ تھے، وہ عملاً موید (supporter) بن گئے۔ یہ تبدیلی اس طرح آئی کہ جمہوریت (democracy) اور ٹکنالوجی کے ذریعہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ہر آدمی کا مفاد دوسرے آدمی کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2022 All issues