Al-Risala · January 2022 · page 21

ارتقا علم کی کسوٹی پر

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۲۱

ارتقا علم کی کسوٹی پر

حیاتیاتی ارتقا کے متعلق چارلس ڈارون کی کتاب 1859 میں شائع ہوئی تو مغربی اقوام کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں زندگی کی پیدائش کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا گیا تھا وہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں ٹائٹل پر حسب ذیل نام درج تھا:

The Origin of Species of Natural Selection, or the Preservation of Favoured Species in the Struggle for Life. ڈارون کے نظریہ کا خلاصہ یہ تھا کہ کسی جاندار سے جب چند بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے کسی کا فرق اس کو دوسرے ہم جنسوں کے مقابلہ میں زیادہ بہتر پوزیشن میں کر دیتا ہے، اسی بنا پر وہ زندہ رہتا ہے اور دوسرے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ فرق توالد و تناسل کے ذریعہ بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ لاکھوں سال میں یہ نوبت آتی ہے کہ ایک نوع کا جانور دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ مثلاً بکری کا گھوڑا بن جانا۔ اس طرح مختلف جاندار ارتقا کی سیڑھیوں پر چڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ انسان وجود میں آ جاتا ہے۔

بظاہر اس خوبصورت نظریہ میں بہت سے خلا تھے۔ مثلاً یہ کہ ارتقا اگر ایک مسلسل عمل ہے تو کیوں ایسا ہے کہ زمین کے طبقات سے حاصل ہونے والے مجرات صرف کمال کے مرحلہ کو پہنچے ہوئے انواع حیات کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ کیوں نہ ایسا ہوا کہ درمیانی مرحلہ کی قسمیں بھی کثیر تعداد میں موجود ہوتیں۔ یعنی ایسے جانور جو آدھا ایک جیسے ہوں اور آدھا دوسرے جیسے: If evolution has been a continuous process, why does the fossil record only show us apparently settled and established species. Why does it not include an abundance of intermediate forms. ڈارون کا جواب یہ تھا کہ فانسلز کا ذخیرہ ابھی نا تمام ہے۔ آئندہ جب زیادہ فانسلز دستیاب

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page