Al-Risala · January 2022 · page 22

ارتقا علم کی کسوٹی پر

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۲۲

ہو چکے ہوں گے تو یہ کمی دور ہو جائے گی۔ ڈارون کے بعد مزید زیادہ فاصلز انسان کے علم میں آئے۔ مگر مذکورہ کمی اس کے باوجود بدستور باقی رہی۔

اس قسم کی کثیر خامیوں کے باوجود ڈارونزم کو کیوں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظریہ 19 ویں صدی کے مغربی انسان کی نو آبادیاتی توسیع پسندی کے عین مطابق تھا۔ برٹرینڈ رسل کے الفاظ میں ”یہ آزاد اقتصادیات کے اصول کو نباتات اور حیوانات کی دنیا تک وسیع کرنا تھا:

It was an extension to the animal and vegetable world of laissez-faire economics. نظریہ ارتقا کے دلائل جس معیارِ استدلال پر اترتے ہیں، وہ کون سا معیار ہے۔ یعنی نظریہ ارتقا کا براہ راست تجربہ نہ ہونا۔ البتہ ایسے مشاہدات کا حاصل ہونا، جن سے ان کی صداقت کا منطقی قرینہ معلوم ہوتا ہے۔ ڈارونزم ایک ایسا نظریہ ہے، جس کا لیبارٹری میں تجربہ نہیں کیا گیا ہے، یہ صرف ”عقیدہ“ ہے۔ پھر اس کو کس بنا پر علمی حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اے ای مینڈر کے الفاظ میں یہ ہے:

1۔ یہ نظریہ تمام معلوم حقیقتوں سے ہم آہنگ (consistent) ہے۔

2۔ اس نظریہ میں ان بہت سے واقعات کی توجیہ مل جاتی ہے جو اس کے بغیر سمجھے نہیں جاسکتے۔ 3۔ دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔ Clearer Thinking, p. 112 یہ استدلال جو نظریہ ارتقا کو حقیقت قرار دینے کے لیے معیارِ استدلال کے اعتبار سے کافی سمجھا جاتا ہے، یہی استدلال زیادہ شدت کے ساتھ مذہب کے حق میں موجود ہے، ایسی حالت میں جدید ذہن کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ کیوں ارتقا کو سائنسی حقیقت قرار دیتا ہے اور مذہب کو سائنسی ذہن کے لیے ناقابل قبول ٹھہراتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page