انسان کا درجہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۶
انسان کا درجہ
قرآن کی سورہ التین میں انسان کے بارے میں ایک فطری قانون بیان کیا گیا ہے۔ بعض تاریخی شہادتوں کو پیش کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَنَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ۔ ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سُفِلِينَ۔ إِلَّا الَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ (95:4-6)۔ یعنی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ مگر جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال کیے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے امکان (potential) کے اعتبار سے اعلیٰ ترین مخلوق کا درجہ رکھتا ہے۔ کوئی انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس دنیا میں جب آتا ہے، تو وہ لامحدود امکان (unlimited potential) لے کر آتا ہے۔ مگر اس امکانی درجہ تک صرف وہ لوگ پہنچیں گے جو خدا کے تخلیقی اسکیم کو شعوری طور پر سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کر سکیں وہ سارے امکان کے باوجود محرومی کا کیس بن کر رہ جائیں گے۔ امکان خدا کا عطیہ ہے۔ لیکن امکان کو پہچاننا، اور اس کو واقعہ بنانا ہمیشہ انسان کا اپنا کام ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے ذاتی حصہ کی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہو گیا، کوئی دوسری چیز اس کو اس انجام سے بچانے والی نہیں۔ انسان کو صرف اس امکان کو پہچاننا ہے۔ پہچاننے کے بعد اس کے امکانات فطرت کے زور پر آن فولڈ (unfold) ہونے لگتے ہیں، اور یہ سلسلہ تاحمر جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اپنے امکان کو واقعہ بنانے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی غور و فکر کے ذریعہ اپنے بارے میں تخلیق کے نقشہ کو سمجھے۔ پھر وہ اس تخلیقی نقشہ سے کامل رعایت کرتے ہوئے اس کے مطابق اپنی عملی سرگرمیاں جاری کرے۔ وہ حق اور ناحق میں فرق کرنا جانے، وہ ناحق سے دور رہتے ہوئے اپنے آپ کو حق کا پابند بنائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues