ماننے سے پہلے تحقیق
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۷
ماننے سے پہلے تحقیق
قرآن کی سورہ الحجرات میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو صرف سن کر نہ مان لیا جائے۔ مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے‘‘ (49:6)۔
لوگ جب مل جل کر رہتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے بار بار خبریں پہنچتی ہیں۔ ان خبروں پر سننے والے کا ردعمل کیا ہونا چاہیے اسی کی بابت ایک اصول مذکورہ آیت میں بتایا گیا ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ سننے والا جب کسی بات کو سنے تو ماننے سے پہلے اس کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بغیر صرف سننے کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر ایک کی بات دوسرے تک صحیح شکل میں نہیں پہنچتی۔ بات کو پہنچانے والا درمیانی شخص اکثر بات کو بدل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر بات کا ایک بیک گراؤنڈ یا موقع محل ہوتا ہے۔ مگر بات کو نقل کرنے والا اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ بیک گراؤنڈ کو بتائے بغیر مجرد شکل میں بات کو بیان کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بات اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کچھ ہوتی ہے اور سننے والے تک پہنچ کر وہ کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سننے والا آدمی غلط رائے قائم کرتا ہے اور غلط اقدام کر ڈالتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار اس صورت میں نکلتا ہے کہ آدمی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، حالاں کہ اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ ہر سماج میں پیش آتا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر یہ مزاج بنائے کہ وہ صرف سن کر کسی بات کو نہ مان لے ۔ ماننے سے پہلے وہ ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو ایسی حالت میں اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ سنی ہوئی بات کو بھلا دے۔ وہ اس پر نہ کوئی رائے قائم کرے اور نہ اس کی بنیاد پر کسی اقدام کا منصوبہ بنائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues