ایثارِ نفس
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۰
ایثارِ نفس
قرآن کی سورہ الحشر میں اعلیٰ انسانوں کی صفات بتائی گئی ہیں۔ ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثارِ نفس ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (59:9)_ یعنی، ”اور وہ دوسروں کو اپنے او پر مقدم رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہوں “۔ یہ آیت اگرچہ انصارِ مدینہ کے ریفرنس میں ہے، مگر اس کا حکم عام ہے۔ ایثار نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ ایثار نفس کا مطلب ہے، اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا۔ اپنے حق میں کمی کر کے دوسرے کا حق پورا کرنا۔ یہ صفت ایک فرد کے لیے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔
انسانیت کی مجموعی ترقی کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے۔ جس سماج کے افراد میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں۔ وہ اپنی سیٹ کو خالی کر کے دوسرے کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کر کے اس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔
جس سماج میں یہ صفت ہو اس میں آپس کی محبت بڑھے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار رہیں گے۔ سماج کے لوگوں میں حسد اور بغض اور خود غرضی جیسی برائیوں کی جڑ کٹ جائے گی۔ ایسے سماج میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پائیں گے۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی ہوگی۔ ایسا سماج گویا ایک خاندان کی مانند ہو گا جس میں لوگ بھائی بہن کی طرح مل کررہیں گے۔
ایثار نفس بظاہر ایک قربانی ہے۔ مگر اسی میں ذاتی فائدہ کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ جو آدمی دوسروں کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرے وہ دوسروں کے دل کو جیت لیتا ہے، اور جب دلوں کو جیت لیا جائے تو اس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues