لالچ کا نقصان
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۱
لالچ کا نقصان
قرآن میں ایک ایسی اخلاقی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی کامیابی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (64:16)۔ پس تم اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے ۔ اور سنو اور مانو اور خرچ کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور جو لوگ اپنے جی کے لالچ سے بچا لیے گئے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
شُحَّ نفس کا مطلب ہے حرص (greed)، یعنی اپنی ضرورت سے زیادہ کا خواہش مند ہونا۔ یہ دراصل دل کی تنگی ہے۔ انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ تنگ دل اور فراخ دل۔ تنگ دل انسان وہ ہے جو اپنی ذات کے دائرہ میں محدود ہو کر سوچے ۔ جس کا مقصد صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو۔ یہی وہ آدمی ہے جو لالچ یا شُحَّ نفس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کوئی شخص جب بھی کوئی فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ سماج کے مجموعی تعاون کی مدد سے حاصل کرتا ہے۔ ایسی حالت میں لالچ یا تنگ دلی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے تو سماج سے لینا چاہتا ہے مگر وہ خود سماج کو دینا نہیں چاہتا۔ اس قسم کی خود غرضی کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہو سکتی، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم کے لیے ۔ یہ حقیقت ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى (صحیح البخاری، حدیث نمبر (1427)۔ یعنی ، دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اس دنیا میں کامیابی صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو کھلا دل رکھتے ہوں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جتنا بڑا دل اتنی بڑی کامیابی ۔ بڑے دل والا آدمی اس بات کا حوصلہ رکھتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرے۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر خوش ہو۔ وہ شکایت کے باوجود دوسروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرے۔ وہ معاملات کو بلند سطح سے دیکھے۔ جس آدمی کے اندر یہ اعلی صفات ہوں وہ لوگوں کے درمیان با عزت درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور جو آدمی دوسروں کے درمیان با عزت درجہ حاصل کرلے اس کی کامیابی کو کوئی روکنے والا نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues