اعلیٰ اخلاق
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۱۲
اعلیٰ اخلاق
سورہ القلم میں اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اس کو انسانیت کا اعلیٰ مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: ﴿وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴾ (68:4) ۔ یعنی، اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔
افراد کے اندر اچھا اخلاق ہونا کسی سماج کو اچھا سماج بناتا ہے۔ اور افراد کے اندر برا اخلاق ہونا کسی سماج کو برا سماج بنا دیتا ہے۔ اخلاق دراصل، داخلی احساس کا خارجی اظہار ہے۔ داخلی سطح پر کوئی انسان جیسا ہوگا، اُس کا اثر اس کے خارجی برتاؤ پر پڑے گا۔
اس آیت میں بظاہر رسول سے خطاب ہے۔ مگر وہ ہر انسان کے لیے ایک عمومی تعلیم ہے۔ وہ ہر انسان کو اعلیٰ انسان بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے۔ خواہ دوسرے اس کے ساتھ برائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔
اعلیٰ انسان کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اخلاق کسی انسان کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک با اصول انسان ہے۔ ایسا اخلاق اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کی شخصیت حالات کی پیدا وار نہیں بلکہ وہ خود اپنے اختیار کردہ اعلیٰ اصول کی پیدا وار ہے۔ جس انسان کے اندر اس قسم کا اعلیٰ اخلاق ہو وہی حقیقی انسان ہے اور جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ اخلاق نہ پایا جائے وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اعلیٰ اخلاق کی صفت انسان کو حیوان سے جدا کرتی ہے۔ حیوان مساویانہ اخلاق کی سطح پر جیتے ہیں۔ کوئی ان کو نہ چھیڑے تو وہ بے ضرر رہیں گے اور اگر کوئی ان کو چھیڑ دے تو وہ اس کے لیے ضرر رساں بن جائیں گے۔ اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ سے بلند ہو کر اپنا رویہ بنائے۔ دوسرے لوگ خواہ اس کے ساتھ اچھے نہ ہوں مگر وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues