Al-Risala · July 2022 · page 21

الفاظ، الفاظ، الفاظ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۱

دیکھ رہا ہے۔ وہ مجھ سے کامل طور پر باخبر ہے۔

اسی طرح قیامت کا معاملہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اس حدیث میں قیامت کی ابتدائی نشانی بتایا گیا ہے۔ وہ علامتیں اگر ظاہر ہو جائیں تو انسان کو کم سے کم یہ کرنا ہے کہ وہ قیامت کے معاملے میں چوکس ہو جائے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ قیامت کے بارے میں سوچنے لگے۔

مذکورہ حدیث (0002) کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی قدر اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ "اور جب تم دیکھو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بہرے اور گونگے زمین کے بادشاہ ہیں۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کے بارے میں خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت (31:34) تلاوت فرمائی: بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا، باخبر ہے (متفق علیہ)۔ اس روایت میں قیامت کی پیشگی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ لوگوں کا شاندار عمارتیں بنا کر ان پر فخر کرنا اور عوام کا بادشاہ بن جانا۔ یہ دونوں نشانیاں دراصل صنعتی دور کی پیشین گوئی ہیں۔ جدید صنعتی ترقیوں کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا ہے جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جا سکتا ہے۔ اس انقلاب نے ہر ایک کے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ وہ اپنے لیے پر فخر عمارتیں کھڑی کر سکے۔ اسی طرح جدید انقلابات کے نتیجہ میں وہ چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ڈیمو کریسی کہا جاتا ہے۔ اس نے پہلی بار یہ کیا کہ عوام کو حاکمیت کا حق دے دیا، جبکہ اس سے پہلے وہ شاہی خاندان کا حق سمجھا جاتا تھا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ اور زکاۃ ادا کرنا۔ اور حج کرنا۔ اور رمضان کے روزے رکھنا (متفق علیہ) اسلام کے پانچ ارکان جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page