Al-Risala · July 2022 · page 22

الفاظ، الفاظ، الفاظ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۲۲

ظاہری فارم (form) ہے۔ شہادت کی ظاہری صورت زبان سے کلمہ کے الفاظ کی ادائیگی ہے۔ اسی طرح نماز اور زکاۃ اور حج اور روزہ کی ظاہری صورتیں ہیں جو کہ معلوم ہیں۔ اسی کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کی ایک اسپرٹ یا داخلی کیفیت ہے۔ کلمہ کی داخلی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کوشعوری دریافت کے درجہ میں اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی معرفت حاصل ہوجائے۔ اسی طرح نماز کی حقیقت عجز اور خشوع ہے۔ زکاۃ کی حقیقت دوسرے انسانوں کے حق میں نفع بخشی ہے۔ حج کی حقیقت سارے اہل ایمان کا ایک فکری مرکز سے جڑ جانا ہے۔ روزہ کی حقیقت صبر ہے۔ یہ پانچ چیزیں گویا پانچ روحانی قدریں (spiritual values) ہیں۔ انہیں پانچ خصوصیات کے مجموعے سے وہ زندگی بنتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہا جاتا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی 70 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ چیز یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ آدمی راستے کی تکلیف دہ چیز ہٹا دے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (متفق علیہ) ایک آدمی کو جب ایمان کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کی زندگی کے ہر بڑے اور چھوٹے شعبہ میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اللہ کی نسبت سے اس کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سینہ اللہ کی صفات کمال کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ انسان کے لیے اس کا خیر خواہی کا جذبہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ وہ نامعلوم راہ گیروں کی راہ کی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے لگتا ہے۔ اس کی حساسیت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو اور صرف اس وقت مطمئن ہو جب کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرلے۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔ اور مہاجر (وطن چھوڑنے والا) وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے (البخاری)۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page