ایک سوال
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۴
پاس جمع کردے۔ مسٹر خشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ میرے پاس شراب کی ایک بوتل تھی۔ یہ بوتل میں نے حسب اعلان ہوائی جہاز کے عملے کے حوالے کر دیا۔ مگر اس کے بعد جب میں لاہور کے اندر داخل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ بلیک مارکیٹ میں شراب نہایت فراوانی کے ساتھ بک رہی ہے، اور میں بلیک سے جتنی چاہے شراب خرید سکتا ہوں۔
یہ واقعہ میں نے ایک عالم دین کو سنایا، اور کہا کہ موجودہ زمانے میں جن مسلم ملکوں میں شراب بند کی گئی ہے، وہاں اس کا یہی انجام ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کا ذہن بنایا اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان کیا (مسند احمد، حدیث نمبر 8620)۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں پہلے اس کے موافق ذہنی فضا بنانی پڑے گی۔ محض قانون کے زور پر لوگوں کو شراب نوشی سے روکا نہیں جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ مگر یہ طریقہ ہم کو اسلاف کے یہاں نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک قانون ہی کے زور پر شراب کوروکا جاتا رہا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ پہلے ذہنی فضا بنائی جائے اس کے بعد شراب پر پابندی لگائی جائے۔
میں نے کہا کہ پچھلے زمانے پر موجودہ زمانہ کو قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ پچھلا زمانہ وہ ہے، جب کہ اسلامی روایات کا تسلسل برابر جاری تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں اسلامی روایات کا تسلسل یکسر ٹوٹ گیا ہے۔ اب دوبارہ وہی ضرورت پیش آ گئی ہے، جو رسول اللہ کے زمانے میں تھی۔ اب ہمیں دوبارہ اسلامی روایات قائم کرنی پڑیں گی، اس کے بعد ہی قانون کا نفاذ مفید ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ قانون ہمیشہ روایات کے زور پر نافذ ہوتا ہے، اور موجودہ زمانے میں شراب بندی کے قانون کے لیے روایات کا زور موجود نہیں ہے۔
اسلامی مشن کا نشانہ فرد (individual) کو ربانی انسان بنانا ہے، نہ کہ نظام (system) کو۔ اسلام کا مقصد انسان کا تزکیہ کر کے اس کو جنتی انسان بنانا ہے، نہ کہ سسٹم کو اسلامائز کرنا۔ مثلاً تقویٰ، معرفت، دعوت، حسن اخلاق، خیر خواہی، وغیرہ کا ذہن انسان کے اندر پیدا کرنا۔ جب انسان کے اندر یہ ذہن پیدا ہو جائے تو وہ خود بخود دوسرے اسلامی احکام کو مان لیتا ہے، جیسا کہ شراب کی حرمت کے واقعہ سے ثابت ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues