ایک سوال
الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۳
ایک سوال
افغانستان میں طالبان اقتدار حاصل کرنے کے بعد یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ اسلامی قانون نافذ کریں گے ۔ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ (ایک قاری الرسالہ ، دہلی) جواب موجودہ زمانے میں افغانستان کے مسئلہ کو بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ صرف اس لیے پیدا ہوا کہ وہاں کے مسلم لیڈروں نے دانشمندی کا طریقہ اختیار نہیں کیا، نہ مذہبی لیڈروں نے اور نہ سیکولر لیڈروں نے۔ اگر افغانستان میں سیاسی معاملے میں خیر الشرین (دو برائیوں میں سے کمتر برائی) کو اختیار کرنے کا اصول اپنایا جاتا تو یہ مسئلہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہوتا۔ یعنی سیاسی معاملے میں اسٹیٹس کو ازم کا طریقہ اختیار کرنا، اور اپنی توانائی کو تخریب کے بجائے تعمیر میں لگانا۔ صحیح البخاری (حدیث نمبر 4993) میں حضرت عائشہ کا بیان ذکر کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دلوں کو بدلا، اس کے بعد شرعی قانون پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ دلوں کو بدلنا یعنی ذہن سازی کرنا۔ افغانستان کے طالبان اس کے برعکس ، بم اور گن اور بندوق وغیرہ کے ذریعے اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی فرق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ طالبان اسلامی قانون کے نفاذ میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی انتہا پسندانہ اور متشددانہ کاروائیوں کے ذریعے افغانستان میں جو چیز لائیں گے ، وہ صرف تباہی ہوگی ۔ وہ نہ کوئی دینی تربیت کر سکیں گے اور نہ کوئی مادی تعمیر۔
ذہن سازی کے بغیر اگر قانون نافذ کیا جائے تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے، اس کو ذیل کے واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انڈیا کے مشہور انگریزی صحافی مسٹر خشونت سنگھ (2014-1915) نے لکھا ہے کہ میں ہندوستان سے پاکستان گیا۔ جب ہمارا ہوائی جہاز لاہور کی فضا میں پہنچا تو جہاز میں اناؤنسر نے اعلان کیا کہ پاکستان میں شراب ممنوع ہے۔ کوئی مسافر شراب کی بوتل کے ساتھ پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ آپ لوگوں میں سے جس شخص کے پاس شراب ہو وہ اس کو جہاز کے عملے کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues