Al-Risala · July 2022 · page 36

But it only happens to scientists

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۶

(وفات 1970ء) والا معاملہ ہے۔ نوبل انعام یافتہ سائنس داں ڈاکٹر رمن سے کسی نے کہا کہ سائنس دانوں کی دریافتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اکثر اتفاقاً ہوئی ہیں۔ سائنس داں تجربات کرتا رہتا ہے کہ اتفاق سے کوئی چیز سامنے آجاتی ہے اور وہ ایک نئی دریافت بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر رمن نے جواب دیا— ہاں، مگر ایسا اتفاق صرف سائنس دانوں ہی کو پیش آتا ہے:

But it only happens to scientists

یہ تجربات اگرچہ لمحاتی ہوتے ہیں۔ مگر یہ لمحات اسی شخص پر گزرتے ہیں جو برسوں سے اپنی زندگی اسی رخ پر لگائے ہوئے ہو۔

20 جنوری 1986

ایک اخبار میں آزادی سے پہلے کی ایک رپورٹ پڑھی کہ 1945 میں جنرل شاہ نواز خان (1914-1983)، کرنل پریم سہگل (1992-1917)، اور کرنل گربخش سنگھ ڈھلوں (2006-1914) گرفتار ہوئے تھے۔ ان پر برطانوی راج کے خلاف بغاوت کا الزام تھا۔ اس کے بعد مقدمہ چلا جس میں وہ رہا ہو گئے۔ لال قلعہ سے رہائی کے بعد صبح سویرے وہ لاہور اسٹیشن پہنچے۔ یہ 1946 کا واقعہ ہے۔ اس روز لاہور اسٹیشن پر اتنی زبردست بھیڑ تھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ لاہور اسٹیشن کی طرف جانے والی تمام سڑکیں ان لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں جو سہگل، ڈھلوں اور شاہ نواز کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے تھے۔ جب گاڑی پلیٹ فارم پر رکی تو عوام نے نعرہ لگایا: لال قلعہ سے آئی آواز سہگل ڈھلوں شاہ نواز تینوں ہنستے ہوئے چہرے کے ساتھ ریل کے ڈبے سے باہر آئے۔ دوسرے ہی لمحے آزاد ہند فوج کے ان جیالوں کو پھولوں کے ہاروں سے اس طرح لاد دیا گیا کہ وہ پھولوں کے تین ڈھیر دکھائی دینے لگے۔ سہگل، ڈھلوں، شاہ نواز، ہندوستان میں ہندو، سکھ، مسلم اتحاد حاصل کرنے کے مضبوط ارادے کے علامت تھے۔ "ہندو مسلم سکھ اتحاد آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں جتنا با معنی لگتا تھا آج وہ اتنا ہی بے معنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی سے پہلے سب کا نشانہ خارجی اقتدار تھا۔ آزادی کے بعد سب کا نشانہ داخلی مخالفت بن گیا۔ جو لوگ خارجی نشانہ پر متحد تھے وہ داخلی نشانہ پر آتے ہی ایک

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page