Al-Risala · July 2022 · page 37

Captain Mustafa is in command

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۲، صفحہ ۳۷

دوسرے سے جدا ہو گئے ۔ صرف جدا نہیں ہوئے بلکہ آپس میں لڑنے لگے ۔ اس دنیا میں وہی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے جو انقلاب سے پہلے بھی تعمیری نشانہ دیتی ہو اور وہ انقلاب کے بعد بھی لوگوں کو تعمیری نشانہ دے ۔ ایسی تحریک صرف وہی ہو سکتی ہے جو آخرت کی بنیاد پر اٹھائی جائے ۔ 21 جنوری 1986 20 جنوری 1986 کی صبح کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 439 کے ذریعے دہلی سے حیدر آباد گیا اور 21 جنوری کی شام کو فلائٹ نمبر 539 سے واپسی ہوئی ۔ دہلی سے حیدر آباد جاتے ہوئے جہاز کے اندر حسب معمول اعلانات شروع ہوئے ۔ اناؤنسر نے دوسری باتوں کے ساتھ کہا ۔ کیپٹن مصطفی جہاز کے پائلٹ ہیں :

Captain Mustafa is in command

انڈین ایئر لائنز میں ، میں نے بہت سفر کیے ہیں ۔ مگر " کیپٹن مصطفی " جیسا لفظ پہلی بار سننے میں آیا ۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان اب اس ملک کی اعلیٰ سروسوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ تاریک ماضی سے نکل کر روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

جن لوگوں کے پاس مسلمانوں کے بارے میں صرف ” نکالے جانے “ کی خبریں ہیں ، انہیں ” داخل کیے جانے “ کی خبروں کا بھی اظہار کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو تصویر کا دوسرا رخ معلوم ہو سکے ۔ ہندوستان کے مسلم لیڈر ملک کے اندر اور ملک کے باہر صرف ایک ہی بات کرنا جانتے ہیں اور وہ تعصب اور امتیاز ہے ۔ وہ تصویر کے دوسرے رخ کا مطلق ذکر نہیں کرتے ۔ قرآن کے الفاظ میں یہ لوگ مطففین ہیں اور خدا کے قانون میں مطففین کے لیے ہلاکت ہے ، نہ کہ نجات ۔ اس سفر میں حیدر آباد میں ایک تجربہ گزرا جس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ تھے : اس دنیا میں آدمی کو مستقبل کی خاطر ماضی کو بھولنا پڑتا ہے ۔ یہاں آدمی کو سبھی کچھ چھوڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ دوبارہ پاسکے ۔ یہاں رکنا پڑتا ہے تاکہ از سر نو آگے بڑھنے کا راستہ کھلے ۔ یہاں دینا پڑتا ہے تاکہ دوبارہ اضافہ کے ساتھ مل سکے ۔ یہاں چپ رہنا پڑتا ہے تاکہ آدمی کو بولنے کے لیے الفاظ مل سکیں ۔ یہ دنیا کھو کر پانے کی جگہ ہے ۔ یہاں دے کر لیا جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2022 All issues

Printed page