نینڈر تھل مین
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۲۵
محققین لکھتے ہیں کہ نینڈر تھل مین کا ڈھانچہ، جو کہ 50-40 سال کی عمر کے ایک آدمی کا ڈھانچہ لگتا ہے، وہ گٹھیا کی بیماری نے آدمی کے نچلے جبڑے اور اس کی گردن اور پورے ڈھانچہ کو متاثر کیا۔ اس آدمی کے سر کا آگے کی طرف جھکاؤ جو پروفیسر بول نے نوٹ کیا تھا، وہ کم از کم جزئی طور پر، اس کی بیماری کے سبب سے تھا۔ حقیقتاً اس آدمی کا ڈھانچہ ویساہی تھا جیسا آج ایک اوسط فرانسیسی آدمی کا ڈھانچہ۔ حتیٰ کہ جدید تحقیقات نے یہ بھی بتایا ہے کہ نینڈرتھل کے دماغ(brain) کا سائز بھی تقریباً وہی تھا جو آج ایک اوسط یورپی شخص کا ہوتا ہے۔ اس کے بال درست کر کے اور موجودہ لباس پہنا کر کھڑا کر دیا جائے تو آج کے مہذب انسان سے وہ کچھ بھی مختلف معلوم نہیں ہوگا۔ حال میں نینڈرتھل مین کے جومیڈ فالسز ملے ہیں وہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ وہ ابتدائی کڑی نہیں بلکہ آج کے ایک انسان کی مانند تھا۔ نینڈرتھل انسان، لفظ انسان کے تمام مفہوم کے اعتبار سے مکمل انسان تھا۔ F. Clark Nowell, Early Man, New York, Time-Life Book, 1968, pp. 123-24 امریکاکے ایک کمپیوٹر اسپیشلسٹ مسٹر ڈیوڈ (David Coppedge) جو ناسا (NASA) میں ایک بڑی پوسٹ پر تھے، اُن کو سروس سے نکال دیا گیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ تخلیق کے بارے میں انٹیلی جنٹ ڈیزائن (intelligent design) کے تصور کو مانتے تھے۔ این بی سی نیوز (12 مارچ 2012) کے مطابق، ان کا خیال تھا کہ ـــ تخلیق میں ضرور ایک بالاتر طاقت کا ہاتھ ہے کیوں کہ زندگی اتنی زیادہ پیچیدہ ہے کہ وہ تنہا ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں نہیں آسکتی: a higher power must have had a hand in creation because life is too complex to have developed through evolution alone. www.nbcnews.com/id/wbna46701591 (accessed on 03.11.21)
ایک امریکی اسکالر جان ویسٹ (John West) نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ کار ریمارک ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مشتبہ ثابت کرتا ہے، جب کہ ماڈرن طبقے کا یہ حال ہے کہ اس نے ایسے کسی بھی شخص کے خلاف عملاً ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے جو ڈارون سے اختلاف کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues