علم سے آغاز
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴
علم سے آغاز
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610ء میں آپ پر خدا کی طرف سے پہلی وحی اتری۔ یہ ابتدائی کلام جو خدا کی طرف سے آپ کو ملا وہ یہ تھا: اَقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اَقْرَأْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ - الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (96:1-5) - یعنی ”پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا انسان کو علق سے۔ پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھایا قلم سے۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔ “ قرآن میں اترا ہوا یہ پہلا کلام الہیٰ بتاتا ہے کہ کسی حقیقی عمل کا آغاز کیا ہے۔ یہ آغاز علم ہے۔ یعنی انسان کو باشعور بنانا۔ اس کے اندر ذہنی تبدیلی لاکر فکری انقلاب پیدا کرنا۔ یہی انسانوں کے درمیان کسی حقیقی تحریک کا آغاز ہے۔ اس دنیا میں وہی انسانی تحریک کامیاب ہوسکتی ہے جو شعور کی بیداری سے اپنے کام کا آغاز کرے۔ رسول اللہ نے علم کا پیغام دیا جو ابدی اہمیت کا حامل تھا۔ جو حال سے لے کر مستقبل تک انسان کے کام آنے والا تھا۔ اور جو اپنے وسیع انطباق (universal application) کے اعتبار سے دوسرے تمام پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔
علم طاقت ہے۔ علم اس دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار ہے، ایک فرد کے لیے بھی اور پوری انسانیت کے لیے بھی۔ علم کاآغاز مائنڈ سے ہوتا ہے مگر وہ پوری خارجی دنیا کو مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ علم سے آدمی کی تکمیل ہے۔ علم کے بغیر ایک انسان ادھورا انسان ہے۔ علم کے بعد وہ مکمل انسان بن جاتا ہے۔ علم سے خالی انسان صرف اپنی ذات کو جانتا ہے۔ علم کے حصول کے بعد آدمی پوری کائنات کو اپنے اندر سمولیتا ہے۔ علم انسان کے ذہنی افق کو بلند کرتا ہے۔ علم انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کرتا ہے۔ علم انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ معرفت حق کے اعلیٰ درجات تک پہنچے۔ علم کسی ناقص انسان کو ایک کامل انسان بنا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues