دنیا ایک سفر
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۵
دنیا ایک سفر
ملکہ ایلزبتھ دوم 8 ستمبر 2022ء کو 96 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ وہ 70 سال تک انگلینڈ کی ملکہ رہیں۔ پوری دنیا میں کئی دنوں تک ملکہ کے موت کی خبر برننگ نیوز کی حیثیت سے چلتی رہی۔ اگر غور کیا جائے تو گویا یہ خبر انسانوں کے لیے ایک فطری حقیقت کی یاد دہانی تھی۔ یعنی اس دنیا کے ہر انسان کو ایک دن اسی طرح اس دنیا سے چلے جانا ہے، جس طرح ملکہ گئیں ۔ کسی کو موت سے چھٹکارا نہیں۔ ایک دن کا واقعہ ہے۔ میں اپنے کمرہ میں لیٹی ہوئی تھی، اس وقت مجھے ہلکی سی نیند آئی۔ اس وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں سی 29 نظام الدین ویسٹ کے جس کمرہ میں موجود ہوں، وہ ایک ٹرین کی شکل میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ٹرین کے اوپر جہاں سامان رکھنے کے لیے جگہ بنی ہوتی ہے، وہاں میں کوئی کپڑا رکھ رہی ہوں۔ ٹرین بالکل سادہ ہے۔ کپڑا بھی سفید چادر کی طرح ہے۔ یہ خواب دیکھ کر میرا مائنڈ ٹرگر ہوا۔ میں سوچنے لگی کہ ہم لوگ اس دنیا کے گھر کو غیر شعوری طور پر اپنا مستقل ٹھکانا (permanent abode) سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن یہ ایک غلط فہمی کا معاملہ ہے۔ یہ ایک سراب (mirage) ہے۔ مرتے ہی حقیقت سامنے آجائے گی کہ یہ دنیا ایک پلیٹ فارم کے سوا کچھ نہیں تھی۔ صاحب معرفت وہی لوگ ہیں جو مرنے سے پہلے اس حقیقت کا ادراک کر لیں۔ اس سلسلے میں ایک بامعنی حدیث رسول ابن عمر رضی اللہ عنہما کے الفاظ میں اس طرح آئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں اس طرح زندگی گزارو، جیسے تم اجنبی ہو یا سفر کرنے والے۔ ابن عمر فرمایا کرتے تھے کہ شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور صبح کے وقت شام کا انتظار نہ کرو۔ اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6416)۔
مولانا وحید الدین خاں صاحب نے لکھا ہے کہ " یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان آج اپنے آپ کو موجودہ دنیا میں پاتا ہے۔ لیکن ایک دن آتا ہے جب کہ ہر عورت اور مرد اس دنیا سے نکال کر اگلی ابدی دنیا کی طرف منتقل (transfer) کر دیا جاتا ہے۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتی ہے، جس کو وہ غیر شعوری طور پر اپنا مستقل ٹھکانا سمجھتا تھا۔ دانش مند وہ ہے جو اس آنے والی ابدی دنیا کو اپنا اصل ٹھکانا سمجھے اور اس کے لیے تیاری کرے" (ماخوذ الرسالہ، نومبر 2016)۔ ڈاکٹر فریدہ خانم
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues