دعا کی حقیقت
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۰
دعا کی حقیقت
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعا کچھ مقرر الفاظ کی تکرار کا نام ہے۔ یعنی پر اسرار نوعیت کے کچھ الفاظ ہیں، ان کو اگر صحیح تلفظ کے ساتھ انسان دہرا لے تو ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ دعا اسپرٹ کا نام ہے، جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ بندے کی زبان سے نکلتی ہے۔ یہ دراصل اسپرٹ ہے، جو کسی دعا کو قابل قبول دعا بناتی ہے۔ دعا کے الفاظ داعی کی قلبی کیفیت کو بتاتے ہیں، وہ محض زبانی طور پر تلفظ کلمات کے ہم معنی نہیں۔
دعا انسان کے داخلی احساس کا لفظی اظہار ہے۔ دعا دراصل اس بات کا نام ہے کہ خدا کی کائنات میں وہ بالکل بے بس ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ انسان دریافت کرے کہ خدا قادر مطلق ہے، اور وہ عاجز مطلق۔ خدا سب کچھ ہے، اور وہ بے کچھ۔ اگر خدا نہ دے تو اس کو کوئی چیز ملنے والی نہیں۔ یعنی وہ خدا کے مقابلے میں اپنی حالت عجز کو دریافت کرے۔ اور یہ دریافت انسان کے لیے اس کے وجود کا حصہ بن جائے۔ جب بندہ کو یہ بات دریافت کے درجے میں معلوم ہو جائے کہ اس کو وہی مل سکتا ہے، جس چیز کو اس کا خدا اسے دینے پر راضی ہو جائے۔ اس وقت بندہ کے اندر ایک بے پناہ تڑپ پیدا ہوتی ہے، اور وہ اپنی زبان سے اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اس کیفیت کے ساتھ اس کی زبان سے جو الفاظ نکلتے ہیں، اسی کا نام دعا ہے۔
ایک روایت کے مطابق، وہ دعا، دعا نہیں جو غفلت والے دل (قَلْبِ غَافِلِ لَاہِ) سے مانگی جائے (سنن الترمذی، حدیث نمبر (3479)۔ جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ بظاہر زبان سے دعا کے الفاظ تو دہرائے لیکن اس کا دل کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ دعاوہ ہے، جو سچی اسپرٹ کے ساتھ مانگی جائے، جس میں آدمی کی شخصیت اور دعا دونوں ایک دوسرے کے ترجمان بن گئے ہوں۔ آدمی کی شخصیت زبان حال سے انسان کی ترجمانی کرے، اور دعا زبان قال سے انسان کی ترجمانی کرے۔ دعا اس کی شخصیت ہو، اور اس کی شخصیت اس کی دعا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues