اہلِ کتاب سے استفادہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۱۹
اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ اس کی بندی کے بیٹے ہیں اور وہ اس کا کلمہ ہے جو اس نے مریم کی طرف القاء کیا۔ اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم حق ہے۔ اللہ ایسے آدمی کو جنت میں داخل کرے گا، اس عمل کے مطابق جس پر وہ تھا (متفق علیہ: صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3435 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر 28)۔
ایمان دراصل معرفت کا نام ہے۔ یعنی آدمی کو خدائی حقیقتوں کی شعوری دریافت حاصل ہو۔ اور پھر وہ اس کو بھر پور طور پر اپنی زندگی میں شامل کرلے۔ ایسے ہی انسان کو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخلہ ملے گا۔
عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے کہا کہ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا۔ مگر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا۔ آپ نے کہا کہ اے عمرو، یہ کیا۔ میں نے کہا کہ میں شرط لگانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا شرط لگانا چاہتے ہو۔ میں نے کہا: یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمرو، کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پچھلے کیے کو ڈھا دیتا ہے۔ اور ہجرت اپنے سے پہلے کیے کو ڈھا دیتی ہے۔ اور حج اس سے پہلے کے کیے کو ڈھا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 121)
ایمان انسانی شخصیت میں مکمل تبدیلی کا نام ہے۔ حقیقی ایمان کے بعد کوئی آدمی اپنی شخصیت کے اعتبار سے وہ نہیں رہتا جو کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ یہ تبدیلی اس کی پوری شخصیت میں ایک مثبت انقلاب کا باعث بن جاتی ہے۔ ایمان کے بعد انسان کی سوچ، اس کا بولنا، اور اس کا کردار سب ایک نئے رنگ میں رنگ جاتا ہے، یعنی اللہ کا رنگ۔ اس کے بعد انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ انسان کے ذہنی ارتقا میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب اس کے اندر ایک تخلیقی شخصیت جاگتی ہے۔ اب اس کا ذکر رب العالمین کا ذکر بن جاتا ہے۔ اب اس کا شکر اعلی شکر بن جاتا ہے— خدا کے یہاں بعد از ایمان حالت کا اعتبار ہے، نہ کہ قبل از ایمان حالت کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues