Al-Risala · November 2022 · page 27

چیلنج کی صورتِ حال

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۷

کہا کہ محمد کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا ہی رہ جائے گی۔ اس کو میں نے مثبت چیلنج کے طور پر لیا۔ اس طرح مجھے یہ موقع ملا کہ میں وہ کتاب لکھوں جس کا نام اسلام دور جدید کا خالق ہے۔ اسی طرح ایک مثال یہ بھی ہے کہ میرے پاس ایک نوجوان عالم دین رہتے تھے۔ ان کی ایک اہم صفت یہ تھی کہ وہ میرے اوپر خوب تنقید کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے جاب کے لیے یو اے ای (UAE) چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا: انا ناقد اكبر ناقد في الهند (میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد پر نقد کرنے والا ہوں)۔ ان کی تنقید وں سے میرے ذہن کے بند گوشے کھلتے تھے، نئی نئی باتیں ذہن میں آتی تھیں، وغیرہ۔ چیلنج کی صورت حال انسانی نیچر کے مطابق ہے۔ اس کے برعکس، آرام وراحت کا راستہ انسان کی نیچر کے مطابق نہیں ہے۔ میں ایک مرتبہ احمد آباد کے سفر میں ایک فیکٹری دیکھنے گیا۔ نئی امپورٹڈ مشینیں اس فیکٹری میں لگی ہوئی تھیں۔ فیکٹری کے نوجوان مالک نے بات چیت کے دوران ایک جملہ بولا تھا: اپنی تو لیمیٹیشن (limitation) آجاتی ہیں مینجمنٹ سائیڈ پر۔ اس جملے نے میرے مائنڈ کو ٹریگر کیا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح ہر انسان کے لیے اس کی ترقی کی لیمیٹیشن (limitation) آجاتی ہے، جب اس کے لیے چیلنج کا ماحول باقی نہ رہے۔

کسی انسان کی زندگی میں چیلنج کا ماحول کیسے پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان دو صفتوں یعنی کامل سادگی اور مکمل قناعت کا حامل ہو، اس کی زندگی میں یہ انقلاب آتا ہے۔ مکمل سادگی کامل عزم کی علامت ہے۔ یہ ایک بامقصد زندگی کی علامت ہے۔ عدم قناعت اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے اندر گہرائی کا فقدان ہے، اور قناعت اس بات کی علامت ہے کہ آدمی گہری غور وفکر کا مالک ہے۔ اس بنا پر وہ مادی چیزوں کے بجائے معنوی چیزوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کو پانے کا طریقہ ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 2317)۔ یعنی یہ کسی آدمی کے اچھے اسلام میں سے ہے کہ وہ بے فائدہ چیز کو ترک کرے۔ دوسرے الفاظ میں، وہ غیر متعلق چیزوں کو ترک کر دے تا کہ وہ سادہ زندگی، اونچی سوچ کا طریقہ اختیار کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page