Al-Risala · November 2022 · page 28

بائی ٹائم اسٹریٹجی

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۲۸

بائی ٹائم اسٹریٹجی

یک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَفْضَلَ الْعِبَادَةِ اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ مِنَ اللَّهِ (مسند البزار، حدیث نمبر 6297) ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بے شک افضل عبادت اللہ کی جانب سے کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ ایک شارح نے اس حدیث کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے: بترك الشكاية من البلاء النازل (شرح مصابیح السنة لابن الملک، حدیث نمبر 1602)۔ یعنی نازل شدہ مصیبت کے موقع پر شکایت کو ترک کرنا۔ موجودہ زمانے میں ایک اسٹریٹجی وجود میں آئی ہے۔ اس کو بائنگ ٹائم (buying time) کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی کام کے لیے وقتی طور پر تاخیر کرنا تا کہ اپنی پوزیشن کو ٹھیک کیا جا سکے: to delay an event temporarily so as to have a longer time to improve one's own position. اس کا مطلب ہے وہی کام کرنا، جو آپ کے لیے ممکن ہو۔ زندگی میں جذباتیت کو ترک کر کے حقیقت پسند بننا۔ اگر انتظار کی ضرورت ہو تو جلد بازی کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے انتظار کرنا اور صبر سے کام لینا ۔ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ نے قریش مکہ کے ساتھ ایک طرفہ شرطوں پر صلح کر لیا تھا۔ یہ جدید اصطلاح کے مطابق بائی ٹائم اسٹریٹیجی تھی۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر بائی ٹائم اسٹریٹیجی کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا (48:27)۔ یعنی پس اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی۔ مفسر البیضاوی (وفات 1292ء) نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے: من الحكمة في تأخير ذلك (تفسیر البیضاوی ، جلد 5، صفحہ 131)۔ یعنی اس تاخیر میں جو حکمت ہے۔ اس صلح کے ذریعہ قریش سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ طے پایا اور نتیجہ دعوت الی اللہ کے لیے موافق فضا پیدا ہوئی۔ اس صلح کے ذریعہ آپ نے اپنے لیے تیاری کا موقع حاصل کیا، اور اتنی زیادہ تیاری کر لی کہ کسی جنگ کے بغیر آپ کو فریق ثانی کے مقابلے میں کامیابی حاصل ہوگئی۔ اسی لیے اس صلح کو قرآن میں فتح مبین کہا گیا ہے۔ یعنی ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیے بغیر بائی ٹائم اسٹریٹیجی کے ذریعے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل کرنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page