پلٹ ڈاؤن مین
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۲۹
ہے وہ حسب ذیل چار بیس:
1. Ape-man of Jawa. 2. Piltdown man 3. Neanderthal Man 4. Cro-magnon Man مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پلٹ ڈاون میں ایک مکمل فریب تھا۔ اس سلسلہ میں سائنس دانوں کے تحقیقی نتائج مختلف کتابوں اور مقالات میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کو جاننے کے لیے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ یا’’پلٹ ڈاون فورجری‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کافی ہے۔ جس کو آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: 1. Bulletin of the British Museum (Natural History), Vol. 2, 2. J.S. Weiner, The Piltdown Forgery (1955)
3. Ronald Millar, The Piltdown Man (1972)
4. Reader's Digest, November 1956 5. Popular Science (Monthly) 1956 چارلس ڈاسن (Charles Dawson) نامی ایک انگریز متحجر ہڈیوں(Fossil Bones) کے جمع کرنے کا بہت شوقین تھا۔ 1912ء کا واقعہ ہے کہ وہ کچھ ہڈیوں کو لے کر برٹش میوزیم پہنچا اور یہ خبر دی کہ یہ ٹکڑے اسے جنوبی انگلینڈ کے ایک مقام پلٹ ڈاون (Piltdown) میں ایک کھوہ کے اندر کنکریوں کے درمیان پڑے ہوئے ملے ہیں۔ برٹش میوزیم کے ایک نامور عالم ڈاکٹر آرتھر اسمتھ وڈورڈ (A.S. Woodward) نے اس میں خصوصی دلچسپی لی اور بتائے ہوئے مقام پر پہنچ کر کھدائی کے ذریعہ مزید ٹکڑے حاصل کیے۔ اس طرح ہیں سے کچھ زیادہ ہڈیوں اور دانت کے ٹکڑے جمع کرکے ان کا مطالعہ شروع کیا گیا۔
ان حاصل شدہ ٹکڑوں میں سب سے زیادہ نمایاں ایک جبڑے کا ٹوٹا ہوا حصہ تھا جو واضح طور پر ایک بندر کا جبڑا معلوم ہوتا تھا۔ مگر اس میں ایک خاص چیز بندر سے مختلف تھی۔ یہ اس میں لگے ہوئے داڑھ کے دو دانت تھے جن کی اوپر کی سطح ہموار (flat) تھی۔ جو کہ صرف کسی انسانی دانت ہی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues