Al-Risala · January 2022 · page 30

پلٹ ڈاؤن مین

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۰

میں ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قیاسی کر لیا گیا کہ یہ جبڑا کسی قدیم انسان کا ہے۔ اور اس کے بعد نہایت آسانی سے اس کو ارتقا کی ایک گم شدہ کڑی قرار دے دیا گیا۔ تلاش کرنے والوں نے جلد ہی پلٹ ڈاؤن کے آس پاس وہ کھوپڑی بھی حاصل کر لی جو دوسرے سابق کے اس انسان کے سر پر قدرت نے پیدا کی تھی۔ مذکورہ بالا کھوہ میں ماقبل تاریخ کے زمانے کے کچھ جانوروں کے آثار ملے جن سے یہ متعین ہو گیا کہ ’’پلٹ ڈاؤن مین‘‘ قدیم برفانی دور کا انسان ہے جو پانچ لاکھ سال پہلے زمین کے اوپر گزر چکا ہے۔ اس تحقیق نے دوسری معلوم کی ہوئی گم شدہ کڑیوں کے مقابلہ میں اس کو قدیم ترین معلوم انسان کی حیثیت دے دی۔ چارلس ڈاسن عظیم اعزازات کا مستحق قرار دیا گیا۔ کیوں کہ اس نے سائنس کی ایک پیچیدہ گتھی کو حل کرنے میں مدد دی تھی۔

پتھر میں تبدیل شدہ یہ انسانی ہڈیاں جو حاصل ہوئی تھیں وہ پورے انسانی ڈھانچہ کے صرف بعض اجزاء تھے۔ مگر ماہرین نے ان کی روشنی میں قوت تخیل (power of imagination) سے کام لے کر پانچ لاکھ سال پہلے کے انسان کا ایک پورا ڈھانچہ تیار کر لیا جو اپنی بے ڈھنگی پیشانی اور بندر نما جبڑوں کے ساتھ چالیس سال تک سائنس دانوں کا مرکز توجہ بنا رہا۔ مگر 1950ء میں یکا یک پلٹ ڈاؤن مین کی حیثیت کو سخت دھکا لگا۔ جب طبقات الارض کے ایک عالم ڈاکٹر کنتھ آکلے (Kenneth Oakley) نے ایک کیمیاوی طریقے کو استعمال کر کے اس کی تاریخ معلوم کی۔ یہ ایک اصول ہے کہ کوئی ہڈی جتنے دنوں تک زمین میں دفن پڑی رہے گی وہ اسی کے بقدر زیادہ مقدار میں ایک مخصوص عنصر کو جذب کرتی ہے جس کا نام فلورین (Fluorine) ہے۔ ڈاکٹر آکلے کے تجربے سے معلوم ہوا کہ حاصل شدہ ہڈیوں میں جتنی فلورین پائی جاتی ہے، اس کے لحاظ سے اس کی عمر صرف پچاس ہزار سال ہونی چاہیے، نہ کہ پانچ لاکھ سال۔

بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پلٹ ڈاؤن مین کی کھوپڑی کے متعلق آکلے کا اندازہ بالکل صحیح تھا۔ مگر اس کی بنیاد پر اس نے جبڑے کی عمر بھی جو اسی قدر فرض کر لی تھی، وہ صحیح نہیں تھی۔ جبڑا در حقیقت موجودہ زمانے کے ایک بندر کا تھا جو فرضی طور پر مذکورہ کھوپڑی کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page