Al-Risala · November 2022 · page 31

Islam and Contemporary Problems

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۱

شوہر آر یو خان بھی۔ انہوں نے کہا کہ میں الرسالہ کے کئی پرچے منگاتی ہوں اور ان کو دوسروں تک پہنچاتی ہوں ۔ میں جانتی ہوں کہ الرسالہ بہت اچھی چیز ہے، مگر کبھی بہت اچھی چیز بھی لوگوں کو اچھی دکھائی نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ آپ کی یہ بات مجھے بہت پسند ہے کہ گنبد کھڑا کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کچھ اینٹیں اس کی نیو میں دفن ہونے پر راضی ہوں۔ انہوں نے اپنے بارے میں تاثر کے ساتھ کہا کہ میں وہ نیو (foundation) بننا چاہتی ہوں جس پر کوئی گنبد کھڑا ہو سکے۔ “ انہوں نے اپنے شوہر کے بارے میں بتایا کہ وہ بہت حقیقت پسند (realist) ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر میں ایک مسئلہ پیدا ہوا۔ میں بہت جھنجھلائی۔ میرے شوہر نے سمجھایا کہ اس وقت ہم صرف صبر ہی کر سکتے ہیں۔ جو کچھ ہو سکتا ہے وہ بعد کو ہو سکتا ہے ۔ ان کا یہ جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ ”بعد کو سب کچھ ہوگا مگر اس وقت کچھ نہیں ہوسکتا “۔ اسی طرح ایک بار وہ اپنے ایک رشتے دار کے یہاں گئیں۔ وہاں انہیں کچھ دن ٹھہر نا تھا۔ وہاں لوگوں کے رہنے سہنے کے طریقے انہیں غلط نظر آئے۔ اس پر انہیں غصہ آیا۔ وہ چاہتی تھیں کہ لوگوں سے لڑ جائیں۔ ان کے شوہر نے کہا کہ یہ تمہارا گھر نہیں ہے، یہ دوسرے کا گھر ہے۔ یہاں تم کو برداشت کر کے رہنا ہوگا۔ اس گھر میں کچھ نہیں بدلے گا، اگر بدلوگی تو تم بدلوگی۔ اسی طرح انہوں نے اپنے شوہر کی ایک بات ان الفاظ میں نقل کی: ”اگر اپنی غلطی کو درست ثابت (justify) کروگی تو کبھی ترقی نہیں کروگی۔ ترقی کرنے کے لیے اپنی غلطی کو ماننا پڑتا ہے۔ “ 29 جنوری 1986 27 جنوری 1986 کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز (تغلق آباد) میں مسٹر اصغر علی انجینئر کی ایک تقریر تھی۔ اس کا عنوان تھا :

Islam and Contemporary Problems

مسٹر اصغر علی انجینئر ان لوگوں میں سے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں حالات بدل گئے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page