Al-Risala · November 2022 · page 32

30 جنوری 1986

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۳۲

ہیں، اس لیے اسلام کی ازسرِ نو تعبیر (بالفاظ دیگر نظرثانی) ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن منزل (goal) کی بات نہیں کرتا بلکہ صراط کی بات کرتا ہے۔ صراط کا مطلب ان کے نزدیک پر اس ہے۔ گویا اسلام میں کوئی حکم آخری طور پر طے شدہ نہیں ہے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ صراط کے معنی پر اس کسے ہیں۔ انہوں نے اس کی کوئی لغوی دلیل نہیں دی۔ حالانکہ دلیل کے بغیر مجرد بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔

ایک گھنٹے کی تقریر میں انہوں نے کوئی ایک بھی ایسی واضح مثال نہیں دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ حالات میں ایسا فرق ہو گیا ہے کہ اب اسلامی حکم میں تبدیلی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ اس لیے ضروری ہو گیا ہے کہ اسلام کے نکاح و طلاق کے قانون پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسلام میں فری انکوائری کے اصول کو رائج کرنے پر زور دیا۔ یہ ایک بڑا عجیب تضاد ہے۔ مقرر موصوف نے جو مثال پیش کی اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم معاشرہ میں عمل (practice) غیر اسلامی ہو گیا ہے۔ مگر اس کی بنیاد پر وہ اسلام کے اصولوں کے بارے میں فری انکوائری کی وکالت کر رہے ہیں۔ جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ معاشرتی خرابی اصول پر عدم پابندی سے ہوئی ہے۔ تو فری انکوائری اس بات پر ہونی چاہیے کہ اصول اور عمل میں مطابقت کیسے پیدا کی جائے، نہ یہ کہ اصولوں پر فری انکوائری کا عمل کیا جائے۔

30 جنوری 1986

آج اتفاقاً لال قلعہ (دہلی) کی طرف جانا ہوا۔ اس عظیم قلعہ کو پانچویں مغل حکمراں شاہ جہاں (1592-1666ء) نے بنوایا تھا۔ قلعہ کی وسیع عمارتیں اور 75 فٹ اونچی دیواریں سرخ پتھروں سے بنی ہوئی ہیں۔ ان کو دیکھ کر عجیب تاثر قائم ہوتا ہے۔

تین سو سال پہلے یہ قلعہ دنیا کی ایک طاقتور سلطنت کا مرکز تھا۔ ”سلطان دہلی کو اس وقت کتنی بڑی حیثیت حاصل ہوگی‘‘ لال قلعہ کو دیکھ کر میری زبان سے یہی جملہ نکلا۔ مگر عجیب بات ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page