مولانا کے بعد
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۵
سلامتی ہو) کے روایتی الفاظ زبان پر جاری تھے۔
قریب ہوا، اپنے ساتھی سے قبلہ معلوم کیا اور نماز جنازہ ادا کی۔ میرا دل مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ مولانا! فی الوقت میں آپ کی قبر کے پاس ہوں۔ جس معرفت کی سطح پر آپ پہنچے ہیں اس کو لے کر مجھے اور میرے ساتھیوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ اس وقت میں قبرستان میں اسی اضطراب کے عالم میں کبھی میں قبر کے کتبہ پر ہاتھ لگاتا، کبھی قبر کو دیکھتا۔ گویا میں مولانا سے کچھ سننا چاہتا ہوں۔ مگر میرے شعور نے کہا کہ مولانا آپ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے کسی کی پرواہ کیے بغیر واضح طور پر خدا کی ہر بات کھول کھول کر بتادی، آخری حد تک خیر خواہی کردی (قَدْ بَلَّغْتُ، وَأَدَّيْتُ، وَنَصَحْتُ)۔ اب مولانا خدا کے فطری قانون کے تحت ہم سے جدا ہو کر آخرت کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ پھر یہ ہم لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم نے مولانا کے ذریعہ جو عصری اسلوب میں اسلام پایا ہے اس کو آگے لے کر جائیں۔
بہر حال، انھیں کیفیات سے گزرتا ہوا سوچ رہا تھا کہ اچانک مجھے افطار کے وقت کی ایک دعا یاد آگئی: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2357)۔ یعنی، پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر و ثواب قائم ہو گیا۔ اس دعا کو میں اس طرح پڑھنے لگا: ذھب روح مولانا و دفن الجسم و ارجو من الله ان يثبت له الفردوس (مولانا کی روح پرواز کر گئی۔ جسم قبر کے حوالے ہو گیا اور اللہ سے امید ہے کہ وہ اپنے فضل سے مولانا کو جنت الفردوس میں ٹھکانہ عطا فرمائے گا)۔ اور یہ بھی سوچا کہ مولانا کی روح جب پرواز کر رہی تھی تو اس وقت بھی وہ اسی قسم کے الفاظ دہرا رہے ہوں گے: :ذھب نفسی، و دفن جسدی و أرجو من الله ان يثبت اجرِی (میری روح پرواز کر گئی میرا جسم سپرد خاک ہو گیا امید ہے کہ میرا رب میرے حق میں بہتر فیصلہ فرمائے گا)۔ گویا مولانا کی سادہ زندگی معرفت کی راہ کا "روزہ" تھا، موت ان کے لیے رفیق اعلیٰ سے ملاقات کا "افطار" بن گئی۔
حقیقت کی تلاش اور حقائق کی یافت کی خاطر ان کی ہڈیاں چٹ گئیں اور رگوں کا خون خشک ہو گیا، پوری امید ہے کہ برزخ کی زندگی میں خدا نے انھیں ضرور تر و تازہ رکھا ہوگا، اور اجر عظیم کا فیصلہ کیا ہوگا جس
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues