مولانا کے بعد
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۶
کی رضا کی خاطر مولانا نے لوگوں کی ناراضگی کو برداشت کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت والا دین غائب ہو جائے اور رسمی عبادت باقی رہ جائے تو از سرِ نو روحِ عبادت کو ڈسکو ر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مولانا وحید الدین خاں نے یہی کام سر انجام دیا ہے۔
داعی کا مشن: خدا امید کا سر چشمہ ہے۔ ایک سچے مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس کی ساری زندگی اضطراب میں گزرتی ہو، مگر اس کا خاتمہ پر امید ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ ایک معلوم مقام کی طرف جا رہا ہوتا ہے، یعنی آخرت اور خدا کی بنائی ہوئی جنت کی طرف۔ معرفتِ رب ہو یا معرفتِ آخرت، اس کی تذکیر کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ مگر شیطان غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ جوانوں کا موضوع نہیں، بوڑھے لوگوں کا موضوع ہے۔ کیوں وہ لوگ زندگی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انسان کی یہی سب سے بڑی نادانی اور سرکشی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ موت کی یاد اور اس کے لیے تیاری کا چر چا آج کل بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی داعی یا مربی معرفت رب یا فکرِ آخرت کی یاد دہانی کراتا ہے تو ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ آخرت کے علاوہ بقیہ سارے موضوعات سے ہر دن روز نامچے یا اخبار ہمیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ مگر خدا کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، اصل تیاری آخرت کی ہے۔ جس کے لیے خالق نے اہتمام کے ساتھ انبیاء کرام کو منتخب کیا تھا۔ قرآن میں ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ (38:46)۔ بے شک ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا کہ وہ آخرت کی یاد دہانی ہے۔ چنانچہ آخرت داعی کا خاص موضوع ہوتا ہے۔ مسائل دنیا تو غیر داعی کا موضوع ہے، مگر مسائل آخرت صرف ایک نبی اور ان کے بعد ان کے ماننے والے داعی کا موضوع ہوا کرتا ہے۔ یقیناً مولانا کی ہر بات آخرت رخی تھی۔ ان کی مجلسوں، ٹیلیفونگ گفتگو اور ان کی کتابوں سے میں نے یہی پایا ہے۔ وہ معرفت اور آخرت کے داعی بن کر دنیا میں رہے اور اسی حالت میں وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے آخری حد تک اپنی صلاحیتوں کی قربانی دی۔ انھوں نے اللہ کی عبادت کو مقصد اور اس کی طرف بلانے کو اپنا مشن بنایا، ان کی ساری تحریروں کو اسی نقطہ نظر کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues