Al-Risala · November 2022 · page 48

مذہب اور جدید چیلنج

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۲، صفحہ ۴۸

موقع اس چھوٹی سی کتاب کو بھی دیجیے، جو ہماری نسلوں کی بقا جیسے اہم مقصد کے تحت لکھی گئی ہے۔ کتاب کے صفحہ 11 کا ایک پیراگراف ملاحظہ کیجیے:" آج کل ہر باپ اپنی اولاد کی شکایت کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر باپ کو خود اپنی شکایت کرنا چاہیے۔ عام طور پر والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو سادہ نہیں بناتے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ رہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہر شوق کو پورا کر سکیں۔ وہ اپنے بچوں کو "ٹی وی کلچر" کا عادی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو گھروں کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ اس بگاڑ کی تمام تر ذمے داری والدین پر ہے، نہ کہ اولاد پر۔ " (طاہر حجازی، کراچی، پاکستان)۔

مذہب اور جدید چیلنج

موجودہ دور میں الحاد (Atheism) کا نظریہ پھیل رہا ہے۔ موجودہ الحاد سائنس اور فلسفے کے جلو میں نمودار ہوا ہے جس نے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کیا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ الحادی فکر سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ صراحتاً خدا کے وجود کے منکر نہیں بنے لیکن تشکیک (agnosticism) میں ضرور مبتلا ہوئے۔ موجودہ سائنسی علوم کا ارتقا جن شخصیات کے ہاتھوں ہوا وہ یا تو خدا کے وجود کے منکر تھے یا متشکک (agnostic)۔ لہٰذا وقت کی بڑی اہم ضرورت تھی کہ موجودہ الحادی فکر کو سائنس کی روشنی میں رد کیا جائے اور سائنس سے خدا کے وجود کا اثبات کیا جائے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور سائنسی مسلمات کی روشنی میں الحادی فکر کا رد کیا۔ مولانا چونکہ انگریزی زبان سے گہری واقفیت رکھتے تھے، لہٰذا انہوں نے سائنسی اور الحادی مواد کا اصل سورس سے مطالعہ کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ الحاد کا ایسا رد سائنس کی روشنی میں کسی اور شخصیت نے نہیں کیا جیسا انہوں نے کیا۔ اس ضمن میں ان کی اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ مذہب اور سائنس 2۔ مذہب اور جدید چیلنج، 3۔ عقلیات اسلام 4۔ خدا کی دریافت: سائنسی حقائق کی روشنی میں۔

دینی مدارس کے طلبہ وعلما کو ان کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ کتابیں سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org/books) پر بھی موجود ہیں۔ (ڈاکٹر فرخ نوید، پاکستان)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2022 All issues

Printed page