تبصرہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۷
سے ایک جینیٹک کوڈ ہے۔ ہر ایک موجودہ زمانہ میں تسلیم کرتا ہے کہ زمین پر زندگی کی تمام قسموں کے لیے صرف ایک کوڈ ہے۔ کوئی حیاتیاتی عالم اس عالمگیریت کی توجیہ نہے کر سکتا کہ سب کے لیے ایک ہی کوڈ کیوں ہے۔ آرگل اور کر یک کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حیاتیات کا ایک ہی بیج تھا، جس سے زندگی شروع ہوئی، اس لیے فطری طور پر اس بیج کا جینیٹک کوڈ، جو کروڑوں سال پہلے کسی دوسرے سیارے کے باشندوں نے زمین پر بھیجا تھا، اپنا اعادہ ایک ہی جینیٹک کوڈ کی شکل میں کرتا رہا۔ دوسری چیز مولب ڈینم (Molybdenum) نامی دھات کا وہ رول ہے جو حیاتیاتی نظام میں پایا جاتا ہے۔ اکثر انزائم سسٹم اپنی کارکردگی کے لیے اس کے اور صرف اس کے محتاج ہوتے ہیں۔ مولب ڈینم اتنا غیر معمولی طور پر اہم ہونے کے باوجود زمین میں پائی جانے والی کل دھاتوں کا صرف 0.02 فی صد (دس ہزار میں دو) ہے۔ دوسری طرف بعض زیادہ مقدار میں پائی جانے والی دھاتیں مثلاً کرومیم اور نُکل، جو کہ اپنی خاصیت میں مولب ڈینم سے بہت مشابہ ہوتی ہیں اور زمینی دھاتوں کا 0.2 فی اور 3.16 فی صد ہیں، حیاتیاتی نظام میں بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ کر یک اور آرگل کہتے ہیں کہ زمین کی جو کیمیائی ترکیب ہے وہ زمین پر وجود میں آنے والی زندگیوں کی بناوٹ میں منعکس ہونی چاہیے تھی۔ اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ زندگی کچھ ملین سال پہلے زمین پر باہر سے بھیجی گئی۔
اگر معین پینس پرمیا کا نظریہ مان لیا جائے تو اس سے دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ (1) کیا کائناتی وقت اتنا کافی ہے کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں، ایک زمین پر اور دوسری کسی اور سیارہ میں۔ (2) کیا حیاتیاتی جرثومہ بین سیاراتی فاصلوں کو عبور کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زندہ حالت میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
کر یک اور آرگل کا خیال ہے کہ ان کا نظریہ قبولیت حاصل کرلے گا، اگر یہ ثابت ہو سکے کہ وہ عناصر جو زمینی زندگی کے اجزائے ترکیبی ہیں، وہ وہی ہیں جو بعض قسم کے ستاروں میں، ان کے قیاس کے مطابق کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues