Al-Risala · January 2022 · page 36

تبصرہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۶

یافتہ تہذیبیں موجود ہیں۔ ان قیاس کے مطابق ، اسی قسم کے کسی سیارہ کے باشندوں نے کچھ ہزار ملین سال پہلے طے کیا کہ وہ اس بات کا تجربہ کریں کہ کیا ان کے پڑوسی سیاروں میں زندگی اپنے لیے نیا ماحول پیدا کرسکتی ہے ۔ چنانچہ انھوں نے ہماری کہکشاں کے کچھ سیاروں پر زندگی کے جراثیم ڈالے۔ اسی قدیم تجربہ کا نتیجہ ہماری موجودہ تہذیب ہے۔

انیسویں صدی میں ڈارون کے نظریہ کے بعد اہل مذاہب کا مخصوص تخلیق کا نظریہ علمائے سائنس کے درمیان ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سائنس داں اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں سرگرداں تھے کہ زندگی شروع کس طرح ہوئی۔ اس بحث کے دوران سویڈن کے کیمسٹ ارے نیس (Arrhenius) نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ تخیل پیش کیا کہ کچھ بیکٹیریائی اجزاء کسی ایسے سیارہ سے زمین پر آگئے، جہاں پہلے سے زندگی موجود تھی، اور پھر تدریجی ارتقا کے ذریعہ اقسام حیاتیات کو وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ارے نیس نے اس طریق عمل کو’’پینس پرمیا‘‘ کا نام دیا۔ اس نظریہ کو اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ بیکٹیریا بین سیاراتی سفر میں خطرناک ریڈی ایشن (radiation) کے مقابلہ میں زندہ نہیں رہ سکتا ، لارڈ کلوین (Kelvin) نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا’’ہو سکتا ہے کہ بیکٹیریا کسی شہابئے سے چپک گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر زمین پر آیا ہو ۔ ‘‘ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ بیکٹیریائی اجزاء شہابئے پر سوار ہو کر ایک سیارہ سے دوسرے سیارہ کا سفر کریں، تاہم پینس پرمیا کا نظریہ کبھی سائنس دانوں کے لیے قابل قبول نہ ہو سکا تھا۔ اس نظریہ کا اساسی مقدمہ یہ ہے کہ زندگی اس سے پہلے کہیں موجود تھی، جب کہ اس نظریہ میں اس کا جواب نہیں ملتا کہ دوسرے سیارہ پر زندگی کیسے وجود میں آئی۔

کریک اور آرگل، یہ مانتے ہوئے کہ بیکٹیریائی اجزاء کی اتفاقی ہجرت ناممکن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت یہ قابل قیاس ہو جاتا ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ بالقصد کسی نے زندگی کے جراثیم کو زمین پر بھیجا ہو۔ وہ اس عمل کو معین پنسپر میا (Directed Panspermia) کا نام دیتے ہیں۔ اس نئے نظریہ کے ثبوت میں کریک اور آرگل دو حیاتیاتی مسئلوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page