ڈارونزم
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۳۹
یہ نظریہ بکری اور زرافہ کو تو ہمیں دکھاتا ہے، لیکن وہ درمیانی انواع اس کی فہرست میں موجود نہیں ہیں جو تبدیلی کے سفر کو عملی طور پر دکھائیں۔ نظریۂ ارتقا کے وکیل ان درمیانی کڑیوں کو مسنگ لنک (missing link) کہتے ہیں۔ لیکن یہ مسنگ لنک صرف ایک قیاسی لنک ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ کے اعتبار سے سرے سے ان کا کوئی وجود نہیں۔
مگر یہ صرف ایک مغالطہ تھا۔ سائنس کی مزید دریافتوں نے یہ ثابت کر دیا کہ ارتقا کا یہ نظریہ علمی اعتبار سے بالکل بے بنیاد ہے۔ سائنس کی جدید دریافت بتاتی ہے کہ فطرت میں کامل درجے کا ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اس دریافت نے علمی طور پر نظریہ ارتقا کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ کیوں کہ ذہین ڈیزائن ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) کی موجودگی کو ثابت کرتا ہے، وہ بے شعور قسم کے انتخاب طبعی کا نتیجہ نہیں ہو سکتی۔
اس نظریہ کی مقبولیت کا راز صرف یہ تھا کہ وہ سیکولر اہل علم کو ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) دکھائی دیا۔ لیکن کوئی نظریہ اس طرح کے قیاس سے ثابت نہیں ہوتا۔ کسی نظریہ کو ثابت شدہ نظریہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی پشت پر معلوم حقائق موجود ہوں جو اس کی تصدیق کرتے ہوں، لیکن ڈارونزم کی تائید کے لیے ایسے حقائق موجود نہیں۔ مثال کے طور پر، ڈارونزم کے مطابق، حیاتیاتی ارتقا کے لیے بہت زیادہ لمبی مدت درکار ہے۔ سائنسی دریافت کے مطابق موجودہ زمین کی عمر اس کے مقابلہ میں بہت زیادہ کم ہے۔ ایسی حالت میں بالفرض اگر زندگی کے آغاز ڈاروینی نظریہ کے مطابق پیش آیا ہو تو وہ موجودہ محدود زمین کے اوپر کبھی واقع نہیں ہو سکتا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتابیں: مذہب اور سائنس، اور علم جدید کا چیلنج)۔ زمین کی محدود عمر کے بارے میں جب سائنس کی دریافت سامنے آئی تو اس کے بعد ارتقا کے وکیلوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ زندگی باہر کسی اور سیارہ پر پیدا ہوئی، پھر وہاں سے سفر کر کے زمین پر آئی۔ اس ارتقائی نظریہ کو انھوں نے مفروضہ طور پر پینس پرمیا (Panspermia) کا نام دیا۔ اب دوربینوں اور خلائی سفروں کے ذریعہ خلا میں کچھ مفروضہ سیاروں کی دریافت شروع ہوئی۔ مگر بے شمار کوششوں کے باوجود اب تک یہ مفروضہ سیارہ دریافت نہ ہو سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues