تدریجی ارتقا کا ثبوت نہیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴۰
تدریجی ارتقا کا ثبوت نہیں
حالیہ تحقیقات نے ارتقا کے مفروضہ کو علمی طور پر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ مثلاً متحجرات (fossils) کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ نظریہ ارتقا کا یہ مفروضہ مشاہدات کے مطابق نہیں ہے کہ زندگی کی ایک نوع کروروں سال میں ہلکی ہلکی تبدیلی سے دوسری نوع کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ مثلاً ڈارونزم میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ لومڑی کی نسلوں میں رفتہ رفتہ تبدیلیاں ہوئیں جس کے نتیجہ میں ساٹھ ملین سال کے بعد لومڑی نے گھوڑے کی صورت اختیار کر لی۔ مگر تازہ دریافتیں بتاتی ہیں کہ زندگی کی انواع میں تبدیلی (اگر اس کو تبدیلی کا نام دیا جائے) بالکل اچانک ہوتی ہے۔ یعنی’’لومڑی‘‘ بالکل اچانک ایک ہی نسل میں گھوڑا بن جاتی ہے۔ زمین کی تہوں میں قدیم زمانہ کے حیاتیاتی آثار جو پتھریلی ہڈیوں یا ڈھانچوں کی صورت میں دفن ہیں وہ قدیم مفروضہ کی مطلق تصدیق نہیں کرتے۔ ہارورڈ یونیورسٹی (امریکہ) کے پروفیسر اسٹیفن جے گولڈ (Stephen Jay Gould) نے جدید شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہےکہ متحجرات کے ریکارڈ کے مطابق انواع حیات کروروں سال تک بغیر بدلے ہوئے ایک حالت پر باقی رہتی ہیں اور پھر اچانک ایک نوع غائب ہو کر دوسری نوع سامنے آجاتی ہے جو بنیادی طور پر پہلی سے مختلف مگر واضح طور پر پہلی کے مشابہ ہوتی ہے: For millions of years species remain unchanged in the fossil record, and then they abruptly disappear to be replaced. (The Sunday Times, London, 8 March, 1981)
فاسلز کے مطالعہ میں ایک نوع کروروں سال تک بالکل یکساں حالت میں نظر آتی ہے۔ اس کے بعد ایسے فاسلز ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ اچانک ایک نوع سامنے آگئی۔ اس طرح تدریجی تبدیلی کا نظریہ سراسر باطل ثابت ہو جاتا ہے۔ تاہم فاسلز کے مطالعہ سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ صرف ایک قسم کے جاندار کے متحجر ڈھانچہ کے بعد اچانک دوسری قسم کے جاندار کے متحجر ڈھانچہ کا ملنا۔ یہ سوال ابھی بدستور حل طلب ہے کہ نئی نوع پچھلی نوع کے بطن سے نکلی یا آزادانہ طور پر وجود میں آئی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues