Al-Risala · January 2022 · page 41

تدریجی ارتقا کا ثبوت نہیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴۱

جس طرح زمین کا پہلا جاندار آزادانہ طور پر وجود میں آیا تھا۔

ارتقا کے حامیوں کا خیال تھا کہ پہلے جاندار کے متعلق اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ اچانک پیدا ہو گیا تو دوسری تمام قسم کے جانداروں کی پیدائش ارتقائی طور پر ثابت ہو جاتی ہے۔ مگر اب حقائق یہ ماننے پر مجبور کر رہے ہیں کہ جس طرح پہلا جاندار اچانک پیدا ہوا اسی طرح جانداروں کی دوسری تمام قسمیں بھی اچانک پیدا ہوئی ہیں۔ ارتقا کا نظریہ جس طرح پہلے جاندار کی تشریح میں ناکام تھا اسی طرح وہ بعد کے جانداروں کی تشریح میں بھی ناکام ہو رہا ہے۔

نظر یہ ارتقا کی صداقت پر موجودہ زمانے کے سائنسداں متفق ہو چکے ہیں۔ ارتقا کا تصور ایک طرف تمام علمی شعبوں پر چھایا جا رہا ہے، ہر وہ مسئلہ جس کو سمجھنے کے لیے خدا کی ضرورت تھی، اس کی جگہ بے تکلف ارتقا کا ایک خوبصورت بت بنا کر رکھ دیا گیا ہے، مگر دوسری طرف عضویاتی ارتقا (Organic Evolution) کا نظریہ، جس سے تمام ارتقائی تصورات اخذ کیے گئے ہیں، اب تک بے دلیل ہے، حتیٰ کہ بعض علما نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اس تصور کو ہم صرف اس لیے مانتے ہیں کہ اس کا کوئی بدل ہمارے پاس موجود نہیں ہے ۔ سر آرتھر کیتھ (Sir Arthur Keith, 1866-1955ء) نے 1953ء میں کہا تھا:

"Evolution is unproved and unprovable. We believe it only because the only alternative is special creation and that is unthinkable." (Islamic Thought, Dec. 1961)

یعنی ارتقا ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے، اور وہ ثابت بھی نہیں کیا جا سکتا، ہم اس پر صرف اس لیے یقین کرتے ہیں کہ اس کا واحد بدل تخلیق کا عقیدہ ہے جوسائنسی طورپر ناقابلِ فہم ہے، گو یا سائنسدان ارتقا کے نظریے کی صداقت پر صرف اس لیے متفق ہو گئے ہیں کہ اگر وہ چھوڑ دیں تو لازمی طور پر انہیں خدا کے تصور پر ایمان لانا پڑے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page