تزئین یا ڈسٹریکشن
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴۳
تعریف اللہ کے لیے ہے، وہ عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کی بعثت کا مقصد آئیڈ یا لاجیکل مواقع کا انفجار تھا۔ یعنی پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد ایک نئے پراسس کا آغاز تھا۔ یعنی آفاق و انفس کی آیات کے ذریعے دین حق کا اظہار۔ لیکن بعد کے مسلم اہل علم، سارے کے سارے، مواقع کو فکری اعتبار سے اویل کرنے کے بجائے سیاسی تحفظ اور جہاد بمعنی قتال جیسی باتوں میں لگ گئے ۔ اس معاملے میں کسی عالم کا استثنا نہیں ہے۔ افغانستان میں طالبان کا سیاسی ظہور اسی سوچ کا ایک ظاہر ہ ہے۔ یہ سب لوگ جہاد اور سیاست کی لائن سے سوچ رہے ہیں۔ اس کے بالمقابل اراءۃ آیات (نشانیوں کے ظہور) کی پیشین گوئی جو قرآن میں کی گئی تھی (فصلت، 41:53)، اس پہلو سے وہ سوچ نہ سکے۔
تزئین یا ڈسٹریکشن
ایسا کیوں ہوا کہ امت کا فوکس اصل پہلو سے ہٹ گیا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے کیس کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے جب پہلے انسان، آدم کو پیدا کیا، اور اس وقت کی موجود مخلوق فرشتے اور ابلیس کے سامنے اس کو پیش کیا تو شیطان نے ناراضگی کے ساتھ کہا تھا: رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (15:39)۔ یعنی ابلیس نے کہا، اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے تزئین کر دوں گا اور سب کو گمراہ کروں گا۔
تزئین شیطان کی سب سے خطرناک چال ہے۔ اس آیت میں تزئین کا مطلب کچھ مفسرین نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: لأشغلنهم بزينة الدنيا عن فعل الطاعة (تفسیر الماوردی، جلد 3، صفحہ 160)۔ یعنی میں ضرور ان کو اطاعت کے عمل سے ہٹا کر دنیا کے فریب میں مشغول کردوں گا۔ لأزَيّنَنّ لهم الباطل حتى يقعوا فيه (زاد المسیر لابن الجوزی، جلد 2، صفحہ 534)۔ یعنی میں ان کے لیے بے نتیجہ باتوں کو مزین کروں گا، یہاں تک کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں گے۔ ان تفسیری اقوال کی روشنی میں شیطان کا کام کیا ہوسکتا ہے ۔ شیطان کی چالوں میں ایک چال ہے تصغیر العظیم
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues