تزئین یا ڈسٹریکشن
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۴۴
اور تکبیر الصغیر (بڑے کو چھوٹا کرنا، اور چھوٹے کو بڑا)۔ غیر حقیقی باتوں کو حقیقی بنا کر پیش کرنا۔ غیر متعلق باتوں کو متعلق اور امپارٹنٹ بناکر پیش کرنا، اور متعلق یا امپارٹنٹ باتوں کو غیر متعلق بنا کر پیش کرنا، وغیرہ۔ نیا دور مواقع کے انفجار (opportunity explosion) کا دور ہے۔ لیکن قانون فطرت کے مطابق، اس دور میں بھی وہی کامیاب ہو سکتا ہے، جو مسائل کو اگنور کرکے مواقع کو اویل کرنے کی حکیمانہ پلاننگ کرے۔ مسائل کو اگنور نہ کرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ شکایتی ذہن کے ساتھ زندگی گزاریں۔ مغربی قوم سے شکایت، ہندوؤں سے شکایت، پڑوسیوں سے شکایت، آفس کے ساتھیوں سے شکایت، ان زمانی تبدیلیوں سے شکایت جو آپ کی سماجی روایت کے خلاف ہوں، وغیرہ۔ اس کے برعکس، مواقع کو اویل کرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ مسائل کے باوجود یہ دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسا موقع ہے، جس کو اویل کرکے کامیابی کا راستہ اختیار کیا جاسکے۔ اس کا عملی نمونہ حضرت عمر کے یہاں ملتا ہے۔ ایک مرتبہ صحابی رسول حذیفہ نے خلیفہ ثانی عمر فاروق سے کہا: إِنَّكَ تَسْتَعِينُ بِالرَّجُلِ الَّذِي فِيهِ وَبَعْضُهُمْ يرويه بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ فَقَالَ عمر: إِنِّي أستعمله لِأَسْتَعِين بقوته ثمَّ أَكون على قفانه ( غريب الحديث للقاسم بن سلام، جلد 3، صفحه 239) ۔ یعنی تم ایسے آدمی سے مدد طلب کرتے ہو، جو فاجر ہے۔ عمر نے کہا: میں اس کو عامل بناتا ہوں تاکہ اس کی قوت سے مدد حاصل کروں، پھر میں اس کی نگرانی کر رہا ہوں (تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کریں)۔ یہی ہے مسائل کو اگنور کر کے مواقع کو اویل کرنا۔ یعنی ایک انسان کے اندر برائی ہے، اس کے ساتھ اس میں انتظامی صلاحیت بھی ہے تو حضرت عمر نے ایسے انسان کی برائی کو نظر انداز کیا، اور اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا۔ اٹھایا۔ ایسا رسول اللہ کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ آپ نے بھی ہجرت مدینہ کے موقع پر ایک مشرک عبد اللہ بن اریقط کو اپنا رہنما بنایا تھا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 488)۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان آن او بلڈ آپرچونٹی (unavailed opportunity) کا کیس بن گئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے جو سائنسی ڈسکوری کی ہے، اس سے نہ صرف فیزیکل (جیسے پرنٹنگ پریس، کمپیوٹر، انٹرنیٹ وغیرہ کی) سطح پر خدا کے دین کو مدد ملی ہے۔ بلکہ معنوی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues