Al-Risala · January 2022 · page 50

قیامت کی طرف

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۲، صفحہ ۵۰

زمین کے ایک چھوٹے حصے میں ہونے والی فطری تباہی (calamity) گویا اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ایک دن آنے والا ہے، جب کہ زمین مکمل طور پر ڈسٹرائے (destroy) کر دی جائے۔ تباہی کے یہ چھوٹے چھوٹے فطری واقعات گویا موجودہ دنیا کے خاتمے کے آغاز کا اعلان ہیں۔ یعنی بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ موجودہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے اور ایک نئی دنیا بنے، جہاں خدا کا عدل قائم ہو۔ جہاں نیک لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے، اور برے لوگوں کو کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہر زندہ عورت اور مرد اس آنے والے انصاف کے دن (Day of Judgement) کے لیے تیاری کرے، جو بہر حال آ کر رہے گا اور جو آنے کے بعد پھر واپس جانے والا نہیں۔

قرآن کے مطابق، بڑا عذاب (العذاب الاکبر) وہ ہے جو قیامت کے وقت صور اسرافیل کے بعد آئے گا، لیکن اس سے پہلے چھوٹے چھوٹے علامتی عذاب (العذاب الادنی) آئیں گے، تاکہ لوگ متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کر لیں (السجدة، 31:21)۔ گلوبل وارمنگ، میٹھے پانی کی قلت، زلزلوں کی کثرت، آتش فشاں کا کثرت سے پھٹنا، سمندری طوفان، اور سیلاب وغیرہ، اسی قسم کے چھوٹے عذاب ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان متنبہ ہو، اس سے پہلے کہ وہ وقت آجائے جب کہ متنبہ ہونا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

حدیث کے مطابق، انسان کے لیے توبہ (repentance) کا موقع اس وقت تک ہے، جب تک سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو انسان کے لیے توبہ کا موقع ختم ہو جائے گا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر (4070) - اللہ رب العالمین کا حالت غیب میں ہونا امتحان (test) کی مصلحت کی بنا پر ہے۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، گویا خدا کے حالت شہود میں آنے کے پراسس کا آغاز ہوگا، اور قیامت اس پراسس کا کلمینیشن ۔ یہی وہ دن ہوگا، جب کہ خدا غیب سے نکل کر ظاہر ہو جائے گا، اور ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کے اعتبار سے اچھا یا برا بدلہ دے گا۔ لیکن توبہ کا موقع ابھی ختم نہیں ہوا ہے، وہ اب بھی انسان کے پاس موجود ہے۔ وہ جلد سے جلد اپنے آپ کو ایک سچا انسان بنائے، اور خدا کے منصوبہ تخلیق کو جان کر اس کے مطابق زندگی کا سفر شروع کرے ۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2022 All issues

Printed page