روزہ اللہ کے لیے
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۵
کا مقصد یہ ہے کہ محدود اوقات میں اس پر پابندی لگا کر انسان کے اندر یہ احساس جگایا جائے کہ غذا انسان کے لیے کتنی اہم خدائی نعمت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان تیار شدہ ذہن رکھتا ہو تو اس کے لیے روزہ، نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح، فاسٹنگ شاک (fasting shock) بنتا ہے، تا کہ انسان کی تھنکنگ فیکلٹی طاقتور انداز میں ٹرگر (trigger) ہو اور وہ اللہ رب العالمین کی نعمتوں کی دریافت نو (rediscovery) کرے اور اس کی معرفت میں جینے والا بن جائے۔
جب فاسٹنگ شاک سے ایک روزہ دار کا مائنڈ ٹرگر ہو گا تو وہ زیادہ گہرے انداز میں حقیقتوں پر غور کرنے لگے گا۔ وہ سوچے گا کہ میرے خالق کی کیسی عجیب رحمت ہے کہ اس نے میرے لیے پیشگی طور پر سولر سسٹم کی ایک دنیا بنائی۔ یہ دنیا پوری طرح میرے لیے ایک کسٹم میڈ دنیا تھی۔ پھر اس دنیا میں مجھ کورکھا۔ یہاں ایسا ہوا کہ میرے خالق نے میری ہر فطری ضرورت کو پیشگی طور پر جانا اور پیشگی طور پر اس کو میرے لیے زمین میں فراہم کر دیا۔
مثلاً یہاں زمین کے کرہ کے اندرونی حصہ میں تیل (oil) کا ذخیرہ بڑی تعداد میں رکھ دیا جو میری تمام سرگرمیوں کے لیے ایندھن کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ پھر اس نے زمین کے اوپر میٹھے اور کھاری پانی کے چھوٹے بڑے رزروائر (reservoir) بنائے اور ان کو پانی سے بھر دیا۔ اسی طرح اس نے زمین کے اوپر نباتات اگائے اور ان کو آکسیجن کی پیداوار کے لیے ایک عظیم فیکٹری کا رول مقدر کر دیا۔ اسی طرح اس نے زمین کی اوپری سطح کو soil کی حیثیت سے ڈیولپ کیا اور اس پر میرے لیے ہر قسم کی حیات بخش غذائیں اگائیں، وغیرہ وغیرہ۔
روزہ دار کی اسپرٹ یہ ہوتی ہے کہ وہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو تیار (prepared) انسان بناتا ہے تا کہ وہ اللہ کی بے پایاں نعمتوں (blessings) کا شدت کے ساتھ احساس کر کے ان میں غرق ہو جائے۔ اگر روزہ دار ایسا کرے تو اس کا روزہ اللہ کے لیے (for the sake of God) بن جائے گا۔ اور پھر وہ اس انعام کا مستحق بن جائے گا جس کو حدیث میں لامحدود اجر (unlimited reward) کہا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues