روزہ اسپرٹ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۶
روزہ اسپرٹ
اسلام میں پانچ اعمال ستون (pillars) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک متعلق حدیث کے الفاظ یہ ہیں : بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ : شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 8 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 16)۔ یعنی، آپ نے کہا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
جس طرح عمارت کچھ ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے، اسی طرح اسلامی زندگی پانچ ارکان پر قائم ہوتی ہے۔ یہ پانچ ارکان بظاہر پانچ ریچولز (rituals) ہیں۔ یعنی کلمہ ایمان کے الفاظ کو زبان سے بول دینا، صلاۃ کے متعین طریقہ کو دہرادینا، زکوٰۃ کی مقررہ رقم نکالنا، حج کے مراسم کو ادا کرنا، رمضان کے صوم کا اہتمام کرنا۔ مگر اس کا مطلب شکل برائے شکل نہیں، بلکہ شکل برائے اسپرٹ ہے۔ یعنی ان احکام کی ایک روحانی حقیقت ہے اور ان کی وہی ادائیگی معتبر ہے جس میں اس کی حقیقت پائی جائے۔ یہ ارکان اسی وقت ارکان اسلام ہیں جب کہ ان کو اس طرح اختیار کیا جائے کہ ان کی شکل کے ساتھ ان کی معنوی روح بھی آدمی کے اندر پائی جارہی ہو۔ روح کو جدا کرنے کے بعد شکل کا موجود ہونا ایسا ہی ہے جیسے اس کا موجود نہ ہونا۔ اسلام کا ایک رکن صوم (روزہ) ہے۔ صوم کی ظاہری صورت رمضان کے مہینہ کا روزہ ہے، یعنی صبح سے شام تک بھوکا اور پیاسا رہنا، لیکن اس کی معنوی اسپرٹ صبر اور تواضع ہے۔ صبر و تواضع بلاشبہ زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی تمام کامیابیوں کا راز ہے۔ حقیقی روزہ صبر اور تواضع کی صفت پیدا کرتا ہے، اور انسان کے اندر اعلیٰ انسانی کردار پیدا کرتا ہے۔ حدیث میں ہے : وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ ( صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 1887)۔ یعنی رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔ "صبر کا مہینہ" کا مطلب ہے - مشقت کا مہینہ۔ رمضان کے مہینے میں آدمی کو اپنے معمولات کو توڑنا پڑتا ہے۔ اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پیاس کے باوجود پانی نہ پئے، اور بھوک
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues