Al-Risala · March 2022 · page 12

قرآن کا آسان ہونا

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۱۲

ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ آدمی کو ذہنی تناؤ کا شکار ہونے سے بچالیتا ہے۔

اس دنیا میں ہر آدمی قانونِ خداوندی، بالفاظِ دیگر قانونِ فطرت کے تابع ہے۔ وہ اپنے آغاز میں بھی اسی قانون کے ماتحت ہے اور اپنے آخر میں بھی اسی قانون کے ماتحت۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت جب بھی کسی مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ معتدل انداز میں اس کا سامنا کرے۔ وہ اس کو اپنے حق میں خیر سمجھ کر اس کو قبول کرے۔ اس آیت میں مصیبتوں کا مقصد ابتلاء (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ) بتایا گیا ہے۔ ابتلاء کے معنی امتحان یا آزمائش ہے۔ انسانی زندگی میں اس قسم کے امتحان کا مقصد یہ ہے کہ اس کو حوادث کے درمیان تربیت دے کر زیادہ بہتر انسان بنایا جائے۔ حوادث کسی آدمی کے لیے ترقی کا زینہ ہیں۔ حوادث کے ذریعہ آدمی کا ذہن بیدار ہوتا ہے۔ حوادث کے ذریعہ آدمی کے اندر پختگی (maturity) آتی ہے۔ حوادث آدمی کو متحرک کرنے کا ذریعہ ہیں۔ حوادث آدمی کے لیے زندگی کے سفر میں مہمیز کا کام کرتے ہیں۔ حوادث کے بغیر آدمی نامکمل ہے۔ یہ حوادث ہی ہیں جو آدمی کی شخصیت کو مکمل شخصیت بناتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ حوادث کا صحیح مقابلہ یہ نہیں ہے کہ اپنے ذہنی عمل کو دبانے (suppress) کی کوشش کی جائے۔ بہت سے لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ سگریٹ یا شراب کے ذریعہ اس کو بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مخصوص ورزشوں کے ذریعہ اپنے اندر ذہنی عمل کو معطل کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی سے فرار (escape) کا کوئی طریقہ تلاش کرتے ہیں۔ وہ میڈیٹیشن (meditation) کے ذریعہ اپنے ذہن کو ایک ایسی حالت میں لے جاتے ہیں جس کو ذہنی تخدیر(intellectual (intellectual anaesthesia) کہا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے تمام طریقے فطرت کے خلاف ہیں اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی انسان کے لیے مفید نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی کا حل ذہنی عمل کو دبانا نہیں ہے بلکہ اس کو مینج (manage) کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page