Al-Risala · March 2022 · page 13

اکثریت پر اقلیت کا غلبہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۱۳

اکثریت پر اقلیت کا غلبہ

قرآن کی سورہ البقرہ میں ایک قدیم واقعہ کا ذکر ہے۔ اس کے تحت فطرت کے ایک ابدی قانون کو بتایا گیا ہے، ایک ایسا قانون جو کبھی بدلنے والا نہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت کا ایک حصہ یہ ہے : كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:249) ۔ یعنی، کتنے ہی چھوٹے گروہ اللہ کے حکم سے بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

قرآن کی اس آیت میں چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان پیش آنے والے واقعہ کو بتایا گیا ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں، وہ مکمل طور پر ایک فطری واقعہ ہے جو معلوم قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا تعلق ہر گروہ سے ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ خواہ وہ ایک ملک کا رہنے والا ہو یا کسی دوسرے ملک کا رہنے والا۔ خواہ وہ ایک زمانہ میں رہنے والا ہو یا کسی دوسرے زمانہ میں رہنے والا۔

اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر اٹھاہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مگر ابتدائی طور پر یہ صلاحیت سوئی ہوئی ہوتی ہے۔ جو چیز اس صلاحیت کو جگاتی ہے وہ صرف ایک ہے، اور وہ چیلنج کی حالت ہے، یعنی ایک دوسرے سے مسابقت (competition) کا چیلنج۔ اسی حالت کو قرآن میں عداوت (البقرة، 2:30؛ 2:30؛الا عراف،7:24) 7:24) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چیلنج (یا عداوت) کے حالات آدمی کے اندر سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کو چیلنج والے حالات پیش نہ آئیں ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بیدار نہیں ہوتیں۔ وہ ایک کمتر انسان کی مانند جیتے ہیں اور کمتر انسان کی مانند مر جاتے ہیں۔

چھوٹے گروہ اور بڑے گروہ کے درمیان فرق اسی فطری قانون کی بنا پر پیش آتا ہے۔ کسی سماج میں جب ایک گروہ کم تعداد میں ہو اور دوسرا گروہ زیادہ تعداد میں تو اس فرق کی بنا پر دونوں کو الگ الگ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page