Al-Risala · March 2022 · page 14

اکثریت پر اقلیت کا غلبہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۱۴

حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ایک کو صبر کی مشقت سے گزرنا پڑتا ہے اور دوسرا صبر کی مشقت سے بچار ہتا ہے۔ چھوٹا گروہ مسلسل طور پر بڑے گروہ کے مقابلہ میں چیلنج کی حالت میں رہتا ہے۔ اس دباؤ کی بنا پر چھوٹے گروہ کے لوگوں کی صلاحیتیں مسلسل بیدار ہوتی رہتی ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ اپنی برتر پوزیشن کی بنا پر چیلنج یادباؤ کی صورت حال سے بچا ہوا ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی صلاحیتیں زیادہ بیدار نہیں ہوتیں۔

اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹے یا کمزور گروہ کی تخلیقیت (creativity) بڑھتی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا گروہ مسلسل طور پر غیر تخلیقیت (uncreativity) کا شکار ہو جاتا ہے ۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ اور مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے، جب کہ ایک گروہ پورے معنوں میں تخلیقی گروہ (creative group) بن جاتا ہے، اور دوسرا گروہ پورے معنوں میں غیر تخلیقی گروہ (uncreative group) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

قرآن کی یہ آیت ایک فطری حقیقت کو بتاتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فئۃ قلیلۃ (غیر محفوظ گروہ مسلسل اپنی اہلیت کو بڑھاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ تعداد کی قلت کے باوجود اپنی برترصفات کی بنا پر عملاً غالب حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس، فئۃ کثیرۃ (محفوظ گروہ) مسلسل طور پر انحطاط کا شکار ہوتا رہتا ہے۔ وہ باہمی اتحاد، گہری سوچ اور دور رس عمل جیسی صلاحیتوں سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ آخر کار اپنی ہی دنیا میں عملاً مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے۔ روزہ اس بات کا سبق ہے کہ ک ایک جائز چیز بھی ناجائز بھی ہو جاتی ہے اور ایک مطلوب چیز بھی غیر مطلوب بن جاتی ہے۔

اسلام یہ ہے کہ انسان خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے رک جائے۔ روزہ ہر سال یہی سبق دینے کے لیے فرض کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page