یقین و اعتماد
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۱۶
یقین و اعتماد
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام مکہ میں 570 عیسوی میں پیدا ہوئے، 610 عیسوی میں آپ نے مکہ میں توحید کا مشن شروع کیا۔ وہاں ان کی سخت مخالفت ہوئی۔ چنانچہ 622 عیسوی میں وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔ کیوں کہ مکہ کی قبائلی پارلیمنٹ، دار الندوہ میں آپ کے قتل کا فیصلہ کیا جا چکا تھا۔ یہ ایک بے حد خطرناک سفر تھا۔ دو ہفتہ کے اس سفر کے دوران ایک بار وہ ایک غار (ثور) میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ کے مخالفین جو آپ کی تلاش میں نکلے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے غار کے منہ تک پہنچ گئے۔ اس وقت آپ کے واحد ساتھی ابوبکر صدیق تھے۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اس کے جواب میں پیغمبر اسلام نے جو کہا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : لَاتَحْزَنُ اِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40)۔ یعنی غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
موجودہ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی ایسی صورت حال میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے یارومددگار سمجھنے لگتا ہے۔ اس حالت میں اس کو ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ایسی ذات ہو جس پر وہ یقین کر سکے۔ جو اس کے عجز کی تلافی بن جائے۔
خدا تمام طاقتوں کا سرچشمہ ہے۔ خدا کی ذات پر یقین آدمی کو اٹھا سہارا دیتا ہے۔ خدا پر یقین آدمی کو ایک ایسی ہمت دیتا ہے جو کبھی نہ ٹوٹے۔ خدا کا عقیدہ کسی آدمی کے لیے حوصلہ کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ جس آدمی کو خدا کی ذات پر پورا یقین ہو جائے وہ کسی بھی حال میں بے حوصلہ نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں اس احساس سے دوچار نہیں ہوگا کہ اس کا راستہ بند ہے۔ وہ ہر حال میں آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ زندگی کی آخری منزل تک پہنچنے میں کوئی بھی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی۔ خدا کا عقیدہ انسان کی اندرونی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ وہ انسان کے اندر ایک نیا عزم پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اس کی داخلی قوتوں کو متحرک کر کے ایک بے حوصلہ انسان کو باحوصلہ انسان بنا دیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues