Al-Risala · March 2022 · page 17

سبق لینے والے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۱۷

سبق لینے والے

سورہ الحجر میں بعض تاریخی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعات قوموں کے عروج و زوال کی داستان کو بتاتے ہیں۔ ان تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتِ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ (15:75)۔ یعنی ، بے شک اس میں نشانیاں ہیں متوسمین کے لیے۔ عربی زبان میں وسم کے معنی علامت کے ہوتے ہیں۔ توسم کے معنی ہیں، کسی چیز کی حقیقت کو اس کی علامت اور قرینہ (clue) سے معلوم کرنا، اپنی عقل و فراست سے اصل بات کو جان لینا۔ مثلاً آپ کسی کو دیکھ کر کہیں: تَوَسَّمْتُ فِيهِ الْخَيْرَ یا تَوَسَّمْتُ فِيهِ الشَّرَ۔ یعنی اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر میں نے اندازہ کیا کہ اس کے اندر خیر کا مادہ ہے یا یہ کہ اس کے اندر شر کا مادہ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو اس کو متوسم کہا جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ کائنات میں جو چیزیں ہیں، ان سب کی تخلیق اس طرح کی گئی ہے کہ ہر چیز انسان کے لیے عملاً ایک سبق بن گئی ہے۔ تمام چیزیں روحانی حقیقتوں (spiritual realities) کی مادی تمثیلات (material illustrations) ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سے نصیحت لے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو صاحب بصیرت بناتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ نصیحت لینے کی صلاحیت ہو وہ ہر مشاہدہ اور ہر تجربہ سے سبق لیتے رہیں گے۔ وہ سطور میں بین السطور کو پڑھیں گے ۔ وہ ظاہری واقعات میں اس کے معنوی پہلوؤں کو دریافت کریں گے۔ وہ کسی چیز کو صرف اس کے ظاہر (face-value) پر نہ لیں گے۔ بلکہ وہ اس کی گہرائی تک اتر کر اس کی اصل حقیقت کو معلوم کریں گے۔

یہ صلاحیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ محرومی کے واقعہ کو تجربہ میں ڈھال لے۔ وہ معلومات کو سبق بنا سکے ۔ وہ حال میں مستقبل کو دیکھ لے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو مفکر (thinker) بناتی ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو مدبر کا درجہ عطا کرتی ہے۔ اس صلاحیت کے بغیر ایک آدمی صرف عالم ہے، مگر اس صلاحیت کے ساتھ وہ ایک تخلیقی عالم بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues

Printed page