سازش بے اثر
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۲، صفحہ ۱۸
سازش بے اثر
سورہ آل عمران میں بتایا گیا ہے کہ سازش کا سب سے زیادہ موثر توڑ کیا ہے ۔ وہ ہے — صبر اور تقویٰ ۔ صبر اور تقویٰ بظاہر کوئی مادی طاقت نہیں ، مگر صبر و تقویٰ کے ذریعہ سازش کا کامیاب دفاع کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے : ﴿وَإِنۡ تَصۡبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ﴾ (3:120) ۔ یعنی ، اگر تم صبر کرو اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچائے گی ۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں خدا اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ قرآن کی اس آیت میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش کی موجودگی نہیں ہے ، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سازش کے فطری توڑ کے لیے صبر اور تقویٰ موجود نہ ہو ۔ موجودہ دنیا کو چیلنج اور مسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے ۔ اس لیے یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق سے آگے بڑھنے کے لیے سازش کرتا ہے ۔ لیکن اگر زیر سازش فریق کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو تو وہ اس کے لیے حفاظت کی گارنٹی بن جائے گا ۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ جو کارروائی کی جائے وہ ردعمل کے تحت نہ کی جائے بلکہ مثبت غور و فکر کے بعد ٹھنڈے ذہن کے تحت کی جائے ۔ تقویٰ یعنی گاڈ کانشس نس (God consciousness) اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی کسی بھی حال میں جسٹس سے نہ ہٹے ، وہ جو کارروائی کرے وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر کرے ۔ وہ خدا کے احکام کا پابند ہو ، نہ کہ خود اپنی خواہشات و ترغیبات کا پابند ۔ سازش یا تشدد کے مقابلہ میں اگر جوابی سازش اور تشدد کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس سے فریقین کے درمیان ضد بڑھتی ہے ۔ نفرت اور انتقام کی نفسیات جاگتی ہے ۔ ایک دوسرے کے درمیان وہ منفی جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کو عام طور پر ''سبق سکھانا‘‘ کہتے ہیں ۔ اس طرح کے ماحول میں اصل مسئلہ مزید بڑھتا ہے ۔ انتقام در انتقام کے نتیجہ میں وہ ایک ایسی برائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2022 All issues